نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 34

۳۴ نبیوں کا سردار اکسایا لیکن اللہ تعالیٰ نے بادشاہ حبشہ کے دل کو مضبوط کر دیا اور اُس نے باوجود ان لوگوں کے اصرار کے اور باوجود درباریوں کے اصرار کے مسلمانوں کو کفار کے سپر دکرنے سے انکار کر دیا۔جب یہ وفد نا کام واپس آیا تو مکہ والوں نے ان مسلمانوں کو بلانے کے لئے ایک اور تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ حبشہ جانے والے بعض قافلوں میں یہ خبر مشہور کر دی کہ مکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔جب یہ خبر حبشہ پہنچی تو اکثر مسلمان خوشی سے مکہ کی طرف واپس لوٹے مگر مکہ پہنچ کر اُن کو معلوم ہوا کہ یہ خبر محض شرار تا مشہور کی گئی تھی اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔اس پر کچھ لوگ تو واپس حبشہ چلے گئے اور کچھ ملکہ میں ہی ٹھہر گئے۔ان مکہ میں ٹھہر نے والوں میں سے عثمان بن مظعون بھی تھے جو مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے۔اس دفعہ ان کے باپ کے ایک دوست ولید بن مغیرہ نے ان کو پناہ دی اور وہ امن سے مکہ میں رہنے لگے۔مگر اس عرصہ میں انہوں نے دیکھا کہ بعض دوسرے مسلمانوں کو دکھ دیئے جاتے ہیں اور انہیں سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔چونکہ وہ غیرتمند نو جوان تھے ولید کے پاس گئے اور اُسے کہدیا کہ میں آپ کی پناہ کو واپس کرتا ہوں کیونکہ مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے مسلمان دکھ اُٹھا ئیں اور میں آرام میں رہوں۔چنانچہ ولید نے اعلان کر دیا کہ عثمان اب میری پناہ میں نہیں۔اس کے بعد ایک دن لبید عرب کا مشہور شاعر مکہ کے رؤساء میں بیٹھا اپنے شعر سنا رہا تھا کہ اُس نے ایک مصرع پڑھا وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا فَحَالَةٌ زَائِلٌ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر نعمت آخر مٹ جانے والی ہے۔عثمان نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔لبید ایک بہت بڑا آدمی تھا یہ جواب سن کر جوش میں آ گیا اور اُس نے کہا اے قریش کے لوگو! تمہارے مہمان کو تو پہلے اس طرح ذلیل نہیں کیا جاسکتا تھا اب یہ نیا رواج کب سے شروع ہوا ہے؟ اس پر ایک شخص نے کہا یہ ایک بیوقوف آدمی