نبیوں کا سردار ﷺ — Page 298
۲۹۸ نبیوں کا سردار نہیں ہوئی تھی اُنہوں نے دلیری میں آکر مردوں کا مقابلہ شروع کر دیا اور گھروں میں فساد ہونے لگے۔آخر حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں عورتوں کو مارنے سے روک دیا اور وہ بڑی بڑی دلیریاں کرتی ہیں۔ایسی صورت میں تو ہمیں اجازت ملنی چاہئے کہ ہم انہیں مار پیٹ لیا کریں۔چونکہ ابھی تک عورتوں کے متعلق تفصیل سے احکام نازل نہیں ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر کوئی عورت حد سے بڑھتی ہے تو تم اپنے رواج کے مطابق اُسے مار لیا کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ کسی اشد استثنائی صورت میں مردا اپنی عورتوں کو سزا دیتے، انہوں نے وہی پرانا عربی طریق جاری کر لیا۔عورتوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس آکر شکایت کی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا، جو لوگ اپنی عورتوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یا انہیں مارتے ہیں میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ وہ خدا کی نظر میں اچھے نہیں سمجھے جاتے لے اس کے بعد عورتوں کے حق قائم ہوئے اور عورت نے محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے پہلی دفعہ آزادی کا سانس لیا۔معاویہ القشیری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔يَا رَسُولَ الله ! بیوی کا حق ہم پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جو خدا تمہیں کھانے کے لئے دے وہ اُسے کھلاؤ اور جو خدا تمہیں پہننے کے لئے دے وہ اُسے پہناؤ اور اُس کو تھپڑ نہ مارو اور گالیاں نہ دو اور اُسے گھر سے نہ نکالو سے 60 آپ کو عورتوں کے جذبات کا اس قدر احساس تھا کہ آپ ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے کہ جو لوگ باہر سفر کے لئے جاتے ہیں انہیں جلدی گھر واپس آنا چاہئے تاکہ ان کے بال بچوں کو تکلیف نہ ہو۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص اپنی اُن ابو داؤد کتاب النکاح باب فى ضرب النساء ابو داؤد کتاب النکاح باب فى حق المرأة على زوجها