نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 299

۲۹۹ نبیوں کا سردار ضرورتوں کو پورا کرلے جن کے لئے اسے سفر کرنا پڑا تھا تو اسے چاہئے اپنے رشتہ داروں کا خیال کر کے جلدی واپس آئے لے آپ کا اپنا طریق یہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تھے تو دن کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے۔اگر رات آجاتی تھی تو شہر کے باہر ہی ڈیرہ ڈال دیتے تھے اور صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے اور ہمیشہ اپنے اصحاب کو منع فرماتے تھے کہ اس طرح اچانک گھر میں آکر اپنے اہل وعیال کو تنگ نہیں کرنا چاہئے۔اس میں آپ کے مد نظر یہ حکمت تھی کہ عورت اور مرد کے تعلقات جذباتی ہوتے ہیں مرد کی غیر حاضری میں اگر عورت نے اپنے لباس اور جسم کی صفائی کا پورا خیال نہ رکھا ہو اور خاوند اچانک گھر میں آداخل ہو تو ڈر ہوتا ہے کہ وہ محبت کے جذبات جو مرد عورت کے درمیان ہوتے ہیں اُن کو ٹھیس نہ لگ جائے۔پس آپ نے ہدایت فرما دی کہ انسان جب بھی سفر سے واپس آئے دن کے وقت گھر میں داخل ہو اور بیوی بچوں کو پہلے خبر دے کر داخل ہو تاکہ وہ اس کے استقبال کے لئے پوری طرح تیاری کر لیں۔وفات یافتوں کے متعلق آپ کا عمل آپ ہمیشہ یہ بھی نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ مرنے والے کو وصیت کر دینی چاہئے تا کہ اس کے رشتہ داروں کو بعد میں تکلیف نہ پہنچے۔مرنے والوں کے متعلق آپ کی یہ بھی ہدایت تھی کہ جب کوئی شخص شہر میں مرجائے تو لوگوں کو اس کی برائیاں کبھی بیان نہیں کرنی چاہئیں بلکہ اُس کی خیر کی باتیں کرنی چاہئیں بخاری، مسلم کتاب الامارة باب السفر قطعة من العذاب ابوداؤد کتاب الجهاد باب في الطروق