نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 248

۲۴۸ نبیوں کا سردار سزا کا مستحق ہے مگر اُس صحابی نے پرواہ نہ کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو تمہارا حق ہے کہ بدلہ لو اور آپ نے کروٹ بدلی اور اپنی پیٹھ اُس کی طرف کر دی اور فرمایا لومیرے کہنی مارلو۔اُس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! جب میرے کہنی لگی تھی اُس وقت میرا جسم نگا تھا کیونکہ میرے پاس کر تہ نہ تھا کہ میں اُسے پہنتا۔آپ نے فرمایا میرا کر نہ اُٹھا دو اور ننگے جسم پر کہنی مار کر اپنا بدلہ لے لو۔اُس صحابی نے آپ کا کر نہ اُٹھایا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں اور آنسو بہاتی آنکھوں سے جھک کر آپ کی کمر کو بوسہ دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا؟ اس نے جواب میں کہا يَا رَسُولَ اللہ ! جب آپ فرماتے ہیں کہ آپ کی موت قریب ہے تو آپ کو چھونے اور پیار کرنے کے مواقع ہمیں کب تک ملیں گے۔بیشک جنگ کے موقع پر مجھے آپ کی کہنی لگی تھی ، لیکن کسی کے دل میں اُس کہنی لگنے کا بدلہ لینے کا خیال بھی آسکتا ہے۔میرے دل میں خیال آیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آج مجھ سے بدلہ لے لو تو چلو اس بہانہ سے میں آپ کو پیار ہی کر لوں لے وہی صحابہ جن کے دل غصہ سے خون ہورہے تھے اس بات کو سن کر انہی کے دل میں اس حسرت سے بھر گئے کہ کاش ! یہ موقع ہم کو نصیب ہوتا ! مرض بڑھتا گیا، موت قریب آتی گئی۔مدینہ کا سورج باوجود پہلے کی سی آب و تاب سے چمکنے کے صحابہ کی نظروں میں زرد رہنے لگا۔دن چڑھتے تھے مگر ان کی آنکھوں پر تاریکی کے پردے پڑتے چلے جاتے تھے آخر وہ وقت آ گیا جب کہ خدا کے رسول کی روح دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے حضور میں حاضر ہونے والی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس تیز ہونے لگا اور سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا میرا سر اُٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ رکھ لو بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)