نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 249

۲۴۹ نبیوں کا سردار کیونکہ لیٹے لیٹے سانس نہیں لیا جاتا۔حضرت عائشہ نے آپ کا سر اُٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ لگا لیا اور آپ کو سہارا دے کر بیٹھ گئیں۔موت کی تکلیف آپ پر طاری تھی۔آپ گھبراہٹ سے بیٹھے بیٹھے کبھی اس پہلو پر جھکتے تھے اور کبھی اُس پہلو پر اور فرماتے تھے خدا برا کرے یہود اور نصاریٰ کا کہ اُنہوں نے اپنے نبیوں کے مرنے کے بعد اُن کی قبروں کو مسجد میں بنالیا یہ آپ کی آخری نصیحت تھی اپنی اُمت کیلئے کہ گوتم مجھے تمام نبیوں سے زیادہ شاندار دیکھو گے اور سب سے زیادہ کامیاب پاؤ گے مگر دیکھنا ! میرے بندے ہونے کو کبھی نہ بھول جانا۔خدا کا مقام خدا ہی کیلئے سمجھتے رہنا اور میری قبر کو ایک قبر سے زیادہ کبھی کچھ نہ سمجھنا۔باقی امتیں اپنے نبیوں کی قبروں کو بیشک مسجدیں بنالیں ، وہاں بیٹھ کر چلتے کیا کریں اور اُن پر چڑھاوے چڑھائیں یا نذریں دیں مگر تمہارا یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔تم خدائے واحد کی پرستش کو قائم کرنے کیلئے کھڑے کئے گئے ہو۔یہ کہتے کہتے آپ کی آنکھیں چڑھ گئیں اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے الَی الرَّفِيقِ الْأَعْلَى إِلَى الرَّفِيقِ الْأَعْلَى سِ عرش معلی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔میں عرش معلی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔یہ کہتے کہتے آپ کی روح اس جسم سے جدا ہوگئی۔آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہ کی حالت جب یہ خبر مسجد میں صحابہ کوملی جن میں سے اکثر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد میں آپ کی صحت کی خوشخبری سننے کے انتظار میں تھے تو اُن پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔حضرت ابوبکر ، بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)