نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 19

۱۹ نبیوں کا سردار ہونے شروع ہوئے۔غلاموں ، نوجوانوں اور مظلوم عورتوں کا ایک جتھا آپ کے گرد جمع ہونے لگ گیا۔کیونکہ آپ کی آواز میں عورتیں اپنے حقوق کی حفاظت دیکھ رہی تھیں۔غلام اپنی آزادی کا اعلان سن رہے تھے اور نوجوان بڑی بڑی اُمیدوں اور ترقیوں کے راستے کھلتے ہوئے محسوس کر رہے تھے۔رؤسائے مکہ کی مخالفت جب ہنسی اور ٹھٹھے کی آوازوں میں سے تحسین اور تعریف کی آوازیں بھی بلند ہونا شروع ہو گئیں، تو مکہ کے رؤساء گھبرا گئے، حکام کے دل میں خوف پیدا ہونے لگا۔وہ جمع ہوئے، انہوں نے مشورے کئے ، منصوبے باندھے اور ہنسی اور ٹھیٹھے کی جگہ ظلم وتعدی اور سختی اور قطع تعلق کی تجاویز کا فیصلہ کیا گیا اور اُن پر عمل ہونا شروع ہوا۔اب مکہ سنجیدگی سے اسلام کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔اب وہ پاگلا نہ دعوئی ایک ترقی کرنے والی حقیقت نظر آ رہا تھا۔مکہ کی سیاست کے لئے خطرہ، مکہ کے مذہب کے لئے خطرہ ، مکہ کے تمدن کے لئے خطرہ اور مکہ کے رسم ورواج کے لئے خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔اسلام ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنا تا ہوا نظر آتا تھا۔جس نئے آسمان اور زمین کے ہوتے ہوئے عرب کا پرانا آسمان اور پرانی زمین قائم نہیں رہ سکتے تھے۔اب یہ سوال مکہ والوں کے لئے ہنسی کا سوال نہیں رہا تھا اب یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔اُنہوں نے اسلام کے چیلنج کو قبول کیا اور اُسی روح کے ساتھ قبول کیا جس روح کے ساتھ نبیوں کے دشمن نبیوں کے چیلنج کو قبول کرتے چلے آئے تھے اور وہ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ تلوار اور تیر کے ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے۔اسلام کی خیر خواہی کا جواب ویسے ہی بلند اخلاق کے ذریعہ سے نہیں بلکہ گالی گلوچ اور بد کلامی سے دینے کا اُنہوں نے فیصلہ کر لیا۔ایک دفعہ پھر دنیا میں کفر اور اسلام کی لڑائی