نبیوں کا سردار ﷺ — Page 18
۱۸ نبیوں کا سردار دے کر کہا کہ صرف اِس سوال کا جواب دیجئے اور کچھ نہ کہئے۔جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو ابو بکر نے کہا گواہ رہے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا یا رسُول الله! آپ تو دلائل دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنے لگے تھے۔جس نے آپ کی زندگی کو دیکھا ہو کیا اسے آپ کی سچائی کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ لے مؤمنوں کی چھوٹی سی جماعت یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی جس سے اسلام کی بنیاد پڑی۔ایک عورت کہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ رہی تھی ، ایک گیارہ سالہ بچہ ، ایک جوان آزاد کردہ غلام ، بے وطن اور غیروں میں رہنے والا جس کی پشت پر کوئی نہ تھا۔ایک نوجوان دوست اور ایک مدعی الہام۔یہ وہ چھوٹا سا قافلہ تھا جو دنیا میں نور پھیلانے کے لئے کفر و ضلالت کے میدان کی طرف نکلا۔لوگوں نے جب یہ باتیں سنیں انہوں نے قہقہے لگائے۔باہم دگر چشمکیں کیں اور نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو جتایا کہ یہ لوگ مجنون ہو گئے ہیں ان کی باتوں سے متعجب نہ ہو، بلکہ سنو اور مزہ اُٹھاؤ۔مگر حق اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوا ور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق حکم پر حکم حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون“۔سے ہوتا گیا۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں سے اور اجنبی زبان کے سے جس سے عرب پہلے نا آشنا تھے، خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں سے باتیں کرنی شروع کیں۔نوجوانوں کے دل لرزنے لگے ،صداقت کے متلاشیوں کے جسموں پر کپکپی پیدا ہوئی۔اُن کی ہنسی ٹھٹھے اور استہزاء کی آوازوں میں پسندیدگی اور تحسین کے کلمات بھی آہستہ آہستہ بلند السيرة الحلبية جلدا صفحه ۳۰۸ تا ۳۱۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء تاج یسعیاہ باب ۲۸ آیت ۱۲، ۱۳۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۷ ۱۸۸ء