نبیوں کا سردار ﷺ — Page 210
۲۱۰ نبیوں کا سردار جنگ کی جس کو خدا نے امن عطا فرمایا ہوا تھا۔حکیم نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ٹھیک ہے آپ کی قوم نے بیشک ایسا ہی کیا ہے لیکن آپ کو تو چاہئے تھا کہ بجائے مکہ پر حملہ کرنے کے ہوازن قوم پر حملہ کرتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم بھی ظالم ہے لیکن میں خدا تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ مکہ کی فتح اور اسلام کا غلبہ اور ہوازن کی شکست یہ ساری باتیں میرے ہی ہاتھ پر پوری کرے گا۔اس کے بعد ابوسفیان نے کہا یا رَسُول اللہ ! اگر مکہ کے لوگ تلوار نہ اُٹھا ئیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں! ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اُسے امن دیا جائے گا۔حضرت عباس نے کہا یا رَسُول اللہ ! ابوسفیان فخر پسند آدمی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میری عزت کا بھی کوئی سامان کیا جائے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گالے جو مسجد کعبہ میں گھس جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنے ہتھیار پھینک دے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے گا اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو حکیم بن حزام کے گھر میں چلا جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا۔اس کے بعد ابی رویحہ جن کو آپ نے بلال حبشی غلام کا بھائی بنایا ہوا تھا اُن کے متعلق آپ نے فرمایا۔ہم اس وقت ابی رویحہ کو اپنا جھنڈا دیتے ہیں جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا ہم اُس کو بھی کچھ نہ کہیں گے۔اور بلال سے کہا تم ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جاؤ کہ جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اُس کو امن دیا جائے گا۔سے اس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی۔مکہ کے لوگ بلال کے پیروں میں رسی ڈال کر اُس کو گلیوں میں کھینچا کرتے تھے، مکہ کی گلیاں، مکہ کے میدان بلال کے لئے امن کی جگہ سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۴۶،۴۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۹۳ مطبوعه مصر ۱۹۳۵ء