نبیوں کا سردار ﷺ — Page 211
۲۱۱ نبیوں کا سردار نہیں تھے بلکہ عذاب اور تذلیل اور تضحیک کی جگہ تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ بلال کا دل آج انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہوگا اس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی نہایت ضروری ہے۔مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا انتقام اسلام کی شان کے مطابق ہو۔پس آپ نے بلال کا انتقام اس طرح نہ لیا کہ تلوار کے ساتھ اُس کے دشمنوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں بلکہ اس کے بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑا جھنڈا دے کر کھڑا کر دیا اور بلال کو اس غرض کے لئے مقرر کر دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ جو کوئی میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے آکر کھڑا ہوگا اُسے امن دیا جائے گا۔کیسا شاندار یہ انتقام تھا، کیسا حسین یہ انتقام تھا۔جب بلال بلند آواز سے یہ اعلان کرتا ہو گا کہ اے مکہ والو! آؤ میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو جاؤ تمہیں امن دیا جائے گا تو اُس کا دل خود ہی انتقام کے جذبات سے خالی ہوتا جاتا ہوگا اور اُس نے محسوس کر لیا ہوگا کہ جو انتقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے تجویز کیا ہے اس سے زیادہ شاندار اور اس سے زیادہ حسین انتقام میرے لئے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔جب لشکر مکہ کی طرف بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ کسی سڑک کے کونے پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو لے کر کھڑے ہو جاؤ تا کہ وہ اسلامی لشکر اور اس کی فدائیت کو دیکھ سکیں۔حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سے یکے بعد دیگرے عرب کے وہ قبائل گزرنے شروع ہوئے جن کی امداد پر مکہ بھروسہ کر رہا تھا، مگر آج وہ کفر کا جھنڈ انہیں لہرا رہے تھے آج وہ اسلام کا جھنڈا لہرا رہے تھے اور ان کی زبان پر خدائے قادر کی توحید کا اعلان تھا۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان لینے کیلئے آگے نہیں بڑھ رہے تھے جیسا کہ مکہ والے امید کرتے تھے بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے