نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 174

۱۷۴ نبیوں کا سردار کوئی عرب کا قافلہ آیا ہو تو اُن لوگوں کو پیش کرو تا کہ میں اس شخص کے حالات اُن سے دریافت کروں۔اتفاقاً ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ اُس وقت وہاں آیا ہوا تھا۔دربار کے افسر ابوسفیان کو بادشاہ کی خدمت میں لے گئے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ ابوسفیان کو سب سے آگے کھڑا کیا جائے اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے کھڑا کیا جائے اور ہدایت کی کہ اگر ابوسفیان کسی بات میں جھوٹ بولے تو اس کے ساتھی اس کی فوراً تردید کریں۔پھر اس نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ :۔سوال: یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور جس کا خط میرے پاس آیا ہے کیا تم اس کو جانتے ہواس کا خاندان کیسا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا۔وہ اچھے خاندان کا ہے اور میرے رشتہ داروں میں سے ہے۔سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا ایسا دعویٰ عرب میں پہلے بھی کسی شخص نے کیا ہے؟ جواب: تو ابوسفیان نے جواب دیا نہیں۔سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا تم دعوی سے پہلے اُس پر جھوٹ کا الزام لگایا کرتے تھے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال : پھر اس نے پوچھا۔کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر بادشاہ نے پوچھا۔اس کی عقل اور اس کی رائے کیسی ہوتی ہے؟ جواب : ابوسفیان نے جواب دیا۔ہم نے اس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔کیا بڑے بڑے جابر اور قوت والے لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا غریب اور مسکین لوگ؟ جواب : ابوسفیان نے جواب دیا۔غریب اور مسکین اور نوجوان لوگ۔