نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 173

۱۷۳ نبیوں کا سردار اپنی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں جب آپ نے اپنے اس ارادہ کا صحابہ سے ذکر کیا تو بعض صحابہ نے جو بادشاہی درباروں سے واقف تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! بادشاہ بغیر مہر کے خطا نہیں لیتے۔اس پر آپ نے ایک مہر بنوائی جس پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کھدوائے اور اللہ تعالیٰ کے ادب کے طور پر آپ نے سب سے اوپر اللہ کا لفظ لکھوا دیا۔نیچے ”رسول“ کا اور پھر نیچے ”محمد“ کا لیے محرم ۶۲۸ء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لے کر مختلف صحابہ مختلف ممالک کی طرف روانہ ہو گئے۔ان میں سے ایک خط قیصر روما کے نام تھا اور ایک خط ایران کے بادشاہ کی طرف تھا۔ایک خط مصر کے بادشاہ کی طرف تھا جو قیصر کے ماتحت تھا۔ایک نجاشی کی طرف تھا جو حبشہ کا بادشاہ تھا۔اسی طرح بعض اور بادشاہوں کی طرف آپ نے خطوط لکھے۔قیصر روم ہرقل کے نام خط قیصر روما کا خط دحیہ کلبی صحابی کے ہاتھ بھیجا گیا اور آپ نے اُسے ہدایت کی تھی کہ پہلے وہ بصرہ کے گورنر کے پاس جائے جو نسلاً عرب تھا اور اس کی معرفت قیصر کو خط پہنچائے۔جب دحیہ کلبی" گورنر بصرہ کے پاس خط لے کر پہنچے تو اتفاقاً انہی دنوں قیصر شام کے دورہ پر آیا ہوا تھا۔چنانچہ گورنر بصرہ نے دحیہ کو اس کے پاس بجھوا دیا۔جب دحیہ، گورنر بصرہ کی معرفت قیصر کے پاس پہنچے تو دربار کے افسروں نے اُن سے کہا کہ قیصر کی خدمت میں حاضر ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ قیصر کو سجدہ کرے۔دحیہ نے انکار کیا اور کہا کہ ہم مسلمان کسی انسان کو سجدہ نہیں کرتے چنانچہ بغیر سجدہ کرنے کے آپ اُس کے سامنے گئے اور خط پیش کیا۔بادشاہ نے ترجمان سے خط پڑھوایا اور پھر حکم دیا کہ بخاری کتاب العلم باب ماين كر فى المناولة