نبیوں کا سردار ﷺ — Page 7
نبیوں کا سردار بناتے۔اُن کی کھالوں سے خیمے تیار کرتے اور جو حصہ بچ جاتا اُسے منڈیوں میں لے جا کر بیچ ڈالتے۔عرب کے دیگر حالات و عادات و خصائل سونے چاندی سے وہ نا آشنا تو تھے مگر سونا اور چاندی ان کے لئے ایک نہایت ہی کمیاب جنس تھی۔حتی کہ اُن کے عوام اور غرباء میں زیورات کوڑیوں اور خوشبودار مصالحوں سے بنائے جاتے تھے۔لونگوں اور خربوزوں اور لکڑیوں وغیرہ کے بیجوں اور اسی قسم کی اور چیزوں سے وہ بار تیار کرتے اور اُن کی عورتیں یہ ہار پہن کر زیوروں سے مستغنی ہو جاتی تھیں۔فسق و فجور کثرت سے تھا۔چوری کم تھی مگر ڈا کہ بے انتہاء تھا۔ایک دوسرے کوٹوٹ لینا وہ ایک قومی حق سمجھتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی قول کی پاسداری جتنی عربوں میں ملتی ہے اتنی اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔اگر کوئی شخص کسی طاقتور آدمی یا قوم کے پاس آکر کہہ دیتا کہ میں تمہاری پناہ میں آ گیا ہوں تو اُس شخص یا اُس قوم کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ اُس کو پناہ دے۔اگر وہ قوم اُسے پناہ نہ دے تو سارے عرب میں وہ ذلیل ہو جاتی تھی۔شاعروں کو بہت بڑا اقتدار حاصل تھا وہ گویا قومی لیڈر سمجھے جاتے تھے۔لیڈروں کے لئے زبان کی فصاحت اور اگر ہو سکے تو شاعر ہونا نہایت ضروری تھا۔مہمان نوازی انتہاء درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔جنگل میں بھولا بھٹکا مسافر اگر کسی قبیلہ میں پہنچ جاتا اور کہتا کہ میں تمہارا مہمان آیا ہوں تو وہ بے دریغ بکرے اور دنبے اور اُونٹ ذبح کر دیتے تھے۔اُن کے لئے مہمان کی شخصیت میں کوئی دلچسپی نہ تھی، مہمان کا آجانا ہی اُن کے نزدیک قوم کی عزت اور احترام کو بڑھانے والا تھا اور قوم پر فرض ہو جاتا تھا کہ اُس کی عزت کر کے اپنی عزت کو بڑھائے۔عورتوں کو کوئی حقوق اُس قوم میں حاصل نہیں تھے۔بعض قبائل میں یہ عزت کی بات سمجھی