نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 8

نبیوں کا سردار جاتی تھی کہ باپ اپنی لڑکی کو مار ڈالے۔مؤرخین یہ بات غلط لکھتے ہیں کہ سارے عرب میں لڑکیوں کو مارنے کا رواج تھا۔یہ رواج تو طبعی طور پر سارے ملک میں نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر سارے ملک میں یہ رواج جاری ہو جائے تو پھر اس ملک کی نسل کس طرح باقی رہ سکتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ عرب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں جہاں جہاں بھی یہ رواج پایا جاتا ہے اس کی صورت یہ ہوا کرتی ہے کہ بعض خاندان اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر یا بعض خاندان اپنے آپ کو ایسی مجبوریوں میں مبتلا دیکھ کر اُن کی لڑکیوں کے لئے اُن کی شان کے مطابق رشتے نہیں ملیں گے لڑکیوں کو ماردیا کرتے ہیں۔اس رواج کی برائی اُس کے ظلم میں ہے نہ اس امر میں کہ ساری قوم میں سے لڑکیاں مٹا دی جاتی ہیں۔عربوں کی بعض قوموں میں تو لڑکیاں مارنے کا طریقہ یوں رائج تھا کہ وہ لڑکی زندہ دفن کر دیتے تھے اور بعض میں اس طرح کہ وہ اُس کا گلا گھونٹ دیتے تھے اور بعض اور طریقوں سے ہلاک کر دیتے تھے۔اصلی ماں کے سوا دوسری ماؤں کو عرب لوگ ماں نہیں سمجھتے تھے اور اُن سے شادیاں کرنے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ باپ کے مرنے کے بعد کئی لڑکے اپنی سوتیلی ماؤں سے بیاہ کر لیتے تھے۔کثرت ازدواج عام تھی۔کوئی حد بندی نکاحوں کی نہیں ہوتی تھی۔ایک سے زیادہ بہنوں سے بھی ایک شخص شادی کر لیتا تھا۔لڑائی میں سخت ظلم کرتے تھے جہاں بغض بہت زیادہ ہوتا تھا زخمیوں کے پیٹ چاک کر کے اُن کے کلیجے چبا جاتے تھے۔ناک کان کاٹ دیتے تھے۔آنکھیں نکال دیتے تھے۔غلامی کا رواج عام تھا۔اردگرد کے کمزور قبائل کے آدمیوں کو پکڑ کے لے آتے تھے اور اُن کو غلام بنا لیتے تھے۔غلام کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے۔ہر مالک اپنے غلام سے جو چاہتا سلوک کرتا اُس کے خلاف کوئی گرفت نہ تھی۔اگر وہ قتل بھی کر دیتا تو اس پر کوئی الزام نہ آتا تھا۔اگر کسی دوسرے آدمی کے غلام کو مار دیتا تب بھی وہ موت کی سزا سے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور مالک کو