نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 78

ZA نبیوں کا سردار بھڑ کر اپنے حقوق کا فیصلہ کر لیا کرتے تھے۔اب باقاعدہ قاضی مقرر کئے گئے جن کے فیصلہ کے بغیر کوئی شخص اپنا حق دوسرے سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔پہلے مدینہ کے لوگوں کو علم کی طرف توجہ نہیں تھی اب اس بات کا انتظام کیا گیا کہ پڑھے لکھے لوگ ان پڑھوں کو پڑھانا شروع کریں۔ظلم ، تعدی اور بے انصافی روک دی گئی۔عورتوں کے حقوق کو قائم کیا گیا۔شریعت کے مطابق تمام مالداروں پر ٹیکس مقرر کئے گئے جو غرباء پر خرچ کئے جاتے تھے اور شہر کی عام حالت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کئے جاتے تھے۔مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی گئی۔لاوارثوں کے لئے باقاعدہ تعلیموں کا انتظام کیا گیا۔لین دین میں تحریر اور معاہدہ کی پابندیاں مقرر کی گئیں۔غلاموں پر سختی کو سختی سے روکا جانے لگا۔صفائی اور حفظانِ صحت کے اصول پر زور دیا جانے لگا۔مردم شماری کی ابتدا کی گئی۔گلیوں اور سڑکوں کے چوڑا کرنے کے احکام جاری کئے گئے۔سڑکوں کی صفائی کے متعلق احکام جاری کئے گئے۔غرض عائلی اور شہری زندگی کے تمام اصول مدوّن کئے گئے اور اُن کو باقاعدگی سے جاری کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی گئیں اور عرب پہلی دفعہ منظم اور مہذب سوسائٹی کے اصول سے روشناس ہوئے۔ا دھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے لئے ایک ایسا قانون پیش کر رہے تھے جو نہ صرف اُس زمانہ کے لئے بلکہ ہمیشہ کیلئے اور نہ صرف اُن کے لئے بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کیلئے بھی عزت ، شرف، امن اور ترقی کا موجب تھا۔اُدھر مکہ کے لوگ اسلام کے خلاف با قاعدہ جنگ کی تیاریاں کرنے میں مشغول تھے جس کا نتیجہ بدر کی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا۔قریش کے تجارتی قافلہ کی آمد اور غزوہ بدر ہجرت کے تیرھویں مہینے میں شام سے ایک تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں آ