نبیوں کا سردار ﷺ — Page 79
۷۹ نبیوں کا سردار رہا تھا کہ اُس کی حفاظت کے بہانہ سے مکہ والوں نے ایک زبر دست لشکر مدینہ کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی اطلاع مل گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی ہوئی۔اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کے ظلم کا اُس کے اپنے ہتھیار کے ساتھ جواب دیا جائے۔چنانچہ آپ مدینہ کے چند ساتھیوں کو لے کر نکلے۔جب آپ مدینہ سے نکلے ہیں اُس وقت تک یہ ظاہر نہ تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہوگا یا اصل لشکر سے ، اس لئے تین سو آدمی آپ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قافلہ سے مراد مال سے لدے ہوئے اُونٹ تھے بلکہ مکہ والے ان قافلوں کے ساتھ ایک مضبوط فوجی جتھہ بھجوایا کرتے تھے۔کیونکہ وہ ان قافلوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کو مرعوب بھی کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ اس قافلہ سے پہلے دو قافلوں کا ذکر تاریخ میں آتا ہے کہ اُن میں سے ایک کی حفاظت پر دوسو سپاہی مقرر تھا اور دوسرے کی حفاظت پر تین سو سپاہی مقررتھا۔پس ان حالات میں مسیحی مصنفوں کا یہ لکھنا کہ تین سو سپاہی لے کر آپ مکہ کے ایک نہتے قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے محض دھوکا دہی کے لئے ہے۔یہ قافلہ چونکہ بہت بڑا تھا اس لئے پہلے قافلوں کے حفاظتی دستوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کے ساتھ چار پانچ سوسوار ضرور موجود ہوگا۔اتنے بڑے حفاظتی دستہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اگر اسلامی لشکر جو صرف تین سو آدمیوں پر مشتمل تھا اور جن کے پاس پورا ساز و سامان بھی نہ تھا نکلا تو اُسے لوٹ کا نام دینا محض تعصب،ضد اور بے انصافی ہی کہلا سکتا ہے۔اگر صرف اس قافلہ کا سوال ہوتا تب بھی اُس سے لڑائی جنگ ہی کہلاتی اور جنگ بھی مدافعانہ جنگ کیونکہ مدینہ کا لشکر کمزور تھا اور صرف اسی فتنہ کو دور کرنے کے لئے نکلا تھا جس کی ارد گرد کے قبائل کو شرارت پر اُکسا کر مکہ کے قافلے بنیا درکھ رہے تھے۔مگر جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ الہی منشاء بھی تھا کہ