نبیوں کا سردار ﷺ — Page 60
۶۰ نبیوں کا سردار اپنے نبی کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے لے سراقہ کا تعاقب اور اُس کے متعلق آنحضرت عیہ کی صلى الله ایک پیشگوئی جب مکہ والے آپ کی تلاش میں ناکام رہے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابوبکر کو زندہ یا مردہ واپس لے آئے گا اُس کو سو (۱۰۰) اونٹنی انعام دی جائے گی اور اس اعلان کی خبر مکہ کے اردگرد کے قبائل کو بجھوا دی گئی۔چنانچہ سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔تلاش کرتے کرتے اُس نے مدینہ کی سڑک پر آپ کو جالیا۔جب اُس نے دو اونٹنیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی ہیں تو اُس نے اپنا گھوڑا اُن کے پیچھے دوڑا دیا۔مگر راستہ میں گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور سراقہ گر گیا۔سراقہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنا واقعہ خود اس طرح بیان کرتا ہے کہ جب میں گھوڑے سے گرا تو میں نے عربوں کے دستور کے مطابق اپنے تیروں سے فال نکالی اور فال بُری نکلی۔مگر انعام کے لالچ کی وجہ سے میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر پیچھے دوڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقار کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار چلے جارہے تھے۔انہوں نے مڑ کر مجھے نہیں دیکھا، لیکن ابوبکر ( اس ڈر سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہ پہنچے ) بار بار منہ پھیر کر مجھے دیکھتے تھے۔جب دوسری دفعہ میں اُن کے قریب پہنچا تو پھر میرے گھوڑے نے زور سے ٹھو کر کھائی اور میں گر گیا۔اس پر پھر میں نے اپنے تیروں سے فال ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۳۱۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء -