نبیوں کا سردار ﷺ — Page 46
نبیوں کا سردار ۴۶ شریف الطبع انسان تھا اُس نے اُسی وقت اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور مسلح ہوکر کعبہ کے صحن میں جا کھڑا ہوا اور آپ کو پیغام بھیجا کہ وہ مکہ میں آپ کو آنے کی اجازت دیتا ہے۔آپ مکہ میں داخل ہوئے کعبہ کا طواف کیا اور مطعم اپنی اولا د اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تلواریں کھینچے ہوئے آپ کو آپ کے گھر تک پہنچانے کے لئے آیا۔یہ پناہ نہیں تھی کیونکہ اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم ہوتے رہے اور مطعم نے کوئی حفاظت آپ کی نہیں کی بلکہ یہ صرف مکہ میں داخلہ کی قانونی اجازت تھی۔آپ کے اس سفر کے متعلق دشمنوں کوبھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس سفر میں آپ نے بے نظیر قربانی اور استقلال کا نمونہ دکھایا ہے۔سرولیم میورا اپنی کتاب ”لائف آف محمد میں لکھتے ہیں: "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طائف کے سفر میں ایک شاندار اور شجاعانہ رنگ پایا جاتا ہے۔اکیلا آدمی جس کی اپنی قوم نے اُس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اُسے دھتکار دیا خدا کے نام پر بہادری کے ساتھ نینوا کے یوناہ نبی کی طرح ایک بت پرست شہر کو تو بہ کی اور خدائی مشن کی دعوت دینے کے لئے نکلا۔یہ امر اس کے اس ایمان پر کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پر خدا کی طرف سے سمجھتا تھا ایک بہت تیز روشنی ڈالتا ہے۔مکہ نے پھر ایذاء دہی اور استہزاء کے دروازے کھول دیئے۔پھر خدا کے نبی کے لئے اُس کا وطن جہنم کا نمونہ بننے لگا۔مگر اس پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلیری سے طبقات ابن سعد جلد ۱ صفحه ۲۱۲۔مطبوعہ بیروت ۱۹۸۵ء Life of Mohammad by Willium Muir P۔112, 113 Printed ✓ Edinburg 1923۔