نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 45

۴۵ نبیوں کا سردار لَكَ الْعُقْنِي حَتَّى تَرْضَى وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الأَبِكَ یعنی اے میرے رب ! میں تیرے ہی پاس اپنی کمزوریوں اور اپنے سامانوں کی کمی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔لیکن تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خدا ہے تو مجھے کس کے ہاتھوں میں چھوڑے گا۔کیا اجنبیوں کے ہاتھوں میں جو مجھے ادھر اُدھر دھکیلتے پھریں گے یا اُس دشمن کے ہاتھ میں جو میرے وطن میں مجھ پر غالب ہے۔اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں تو مجھے ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں۔تیرا رحم میرے ساتھ ہے اور تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔میں تیرے چہرہ کی روشنی میں پناہ چاہتا ہوں۔یہ تیرا ہی کام ہے کہ تو تاریکی کو دنیا سے بھگادے اور اس دنیا اور اگلی دنیا میں امن بخشے۔تیرا غصہ اور تیری غیرت مجھ پر نہ بھڑکیں۔تو اگر ناراض بھی ہوتا ہے تو اس لئے کہ پھر خوشی کا اظہار کرے اور تیرے سوا کوئی حقیقی طاقت اور کوئی حقیقی پناہ کی جگہ نہیں۔یہ دعا مانگ کر آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن درمیان میں نخلہ نامی مقام پر ٹھہر گئے۔چند دن وہاں ستا کر پھر آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن عرب کے دستور کے مطابق لڑائی کی وجہ سے مکہ چھوڑ دینے کے بعد آپ مکہ کے باشندے نہیں رہے تھے اب مکہ والوں کا اختیار تھا کہ وہ آپ کو مکہ میں آنے دیتے یا نہ آنے دیتے اس لئے آپ نے مکہ کے ایک رئیس مطعم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم عرب کے دستور کے مطابق مجھے داخلہ کی اجازت دیتے ہو؟ مطعم باوجود شدید دشمن ہونے کے ایک سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۶۲،۶۱۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء