نبیوں کا سردار ﷺ — Page 37
۳۷ نبیوں کا سردار بجائے ان کی بہن کا چہرہ تھا۔عمر" کا ہاتھ زور سے فاطمہ کے چہرہ پر گرا اور فاطمہ کے ناک سے خون کے تراڑے اے بہنے لگے۔فاطمہ نے مار تو کھالی مگر دلیری سے کہا عمر ! یہ بات سچ ہے کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور یادرکھیئے کہ ہم اس دین کو نہیں چھوڑ سکتے آپ سے جو کچھ ہو سکتا ہو کر لیں۔عمر ایک بہادر آدمی تھے ظلم نے اُن کی بہادری کو مٹا نہیں دیا تھا۔ایک عورت اور پھر اپنی بہن کو اپنے ہی ہاتھ سے زخمی دیکھا تو شرمندگی اور ندامت سے گھڑوں پانی پڑ گیا۔بہن کے چہرہ سے خون بہہ رہا تھا اور عمر کے دل سے اب ان کا غصہ دور ہو چکا تھا۔اپنی بہن سے معافی مانگنے کی خواہش زور پکڑ رہی تھی اور تو کوئی بہانہ نہ سُوجھا بہن سے بولے اچھا! لاؤ مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تم لوگ ابھی پڑھ رہے تھے۔فاطمہ نے کہا میں نہیں دکھاؤں گی۔کیونکہ آپ ان اوراق کو ضائع کر دو گے۔عمر نے کہا نہیں بہن میں ایسا نہیں کروں گا۔فاطمہ نے کہا تم تو نجس ہو پہلے غسل کرو پھر دکھاؤں گی عمر ندامت کی شدت کی وجہ سے سب کچھ کرنے کے لیے تیار تھے۔وہ فنسل پر بھی راضی ہو گئے۔جب غسل کر کے واپس آئے تو فاطمہ نے اُن کے ہاتھ میں قرآن کریم کے اوراق دے دیئے۔یہ قرآن کریم کے اوراق سورہ طلہ کی کچھ آیات تھیں۔جب وہ اسے پڑھتے ہوئے اس آیت پر پنے إِنَّنِي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسِيسُ بِمَا تَسْعَى سے یقینا میں ہی اللہ ہوں اور کوئی معبود نہیں صرف میں ہی معبود ہوں۔پس اے مخاطب ! میری عبادت کر اور نماز پڑھ اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری عبادت کو قائم کر۔رسمی عبادت نہیں بلکہ میری بزرگی کو دنیا میں قائم کرنے والی عبادت۔یاد رکھ کہ اس کلام کو قائم کرنے والی گھڑی آ رہی ہے لے (خون کے ) تراڑے: فوارے (خون کا تیزی سے بہنا ) وظه : ۱۶،۱۵