نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 254

۲۵۴ نبیوں کا سردار سمجھا جاتا لیکن عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ عرب لوگ ہر نسل میں کبھی کسی آدمی کو یہ خطاب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں صرف ایک ہی مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملتی ہے کہ آپ کو اہل عرب نے امین اور صدیق کا خطاب دیا۔پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا بتا تا ہے کہ اُس کی امانت اور اُس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میں کسی اور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقینا دنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی۔پھر ایک اجتماعی شہادت آپ کے اخلاق پر حضرت خدیجہ نے آپ کی بعثت کے وقت دی جس کا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح میں ذکر کر چکا ہوں۔اب میں چند مثالیں آپ کے اخلاق کی تشریح کے لئے اس جگہ بیان کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کے اخلاق کے مخفی گوشوں پر بھی اس کتاب کے قارئین کی نظر پڑ سکے۔آنحضرت ﷺ کی ظاہری و باطنی صفائی کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ نہ آپ کبھی بدکلامی کرتے تھے اور نہ فضول قسمیں کھایا کرتے تھے۔اے عرب میں رہتے ہوئے اس قسم کے اخلاق ایک غیر معمولی چیز تھے۔یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ عرب لوگ عادتا مخش کلامی کرتے تھے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب لوگ عادتا قسمیں کھایا کرتے تھے اور آج تک بھی عرب میں قسم کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا اتنا ادب کرتے بخاری کتاب الادب باب ما ينهى من السباب و اللعن + بخاری کتاب الادب باب لم يكن النبی ﷺ فاحشا و متفاحشاً