نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 212

۲۱۲ نبیوں کا سردار لئے تیار تھے اور ان کی انتہائی خواہش یہی تھی کہ خدائے واحد کی تو حید اور اس کی تبلیغ کو دنیا میں قائم کر دیں۔لشکر کے بعد لشکر گزر رہا تھا کہ اتنے میں اشجمع قبیلے کا لشکر گزرا۔اسلام کی محبت اور اس کے لئے قربان ہونے کا جوش ان کے چہروں سے عیاں اور ان کے نعروں سے ظاہر تھا۔ابوسفیان نے کہا۔عباس! یہ کون ہیں؟ عباس نے کہا یہ اشجع قبیلہ ہے۔ابوسفیان نے حیرت سے عباس کا منہ دیکھا اور کہا سارے عرب میں ان سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن نہیں تھا۔عباس نے کہا یہ خدا کا فضل ہے جب اُس نے چاہا ان کے دلوں میں اسلام کی محبت داخل ہو گئی۔سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کا لشکر لئے ہوئے گزرے۔یہ لوگ دو ہزار کی تعداد میں تھے اور سر سے پاؤں تک زرہ بکتروں میں چھپے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ اُن کی صفوں کو درست کرتے چلے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے قدموں کو سنبھال کر چلو تا کہ صفوں کا فاصلہ ٹھیک رہے۔ان پرانے فدا کارانِ اسلام کا جوش اور ان کا عزم اور ان کا ولولہ ان کے چہروں سے ٹپکا پڑتا تھا۔ابوسفیان نے ان کو دیکھا تو اس کا دل دہل گیا۔اس نے پوچھا عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار و مہاجرین کے لشکر میں جارہے ہیں۔ابوسفیان نے جواب دیا اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی دنیا میں کس کو طاقت ہے۔پھر وہ حضرت عباس سے مخاطب ہوا اور کہا عباس! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا میں سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔عباس نے کہا اب بھی تیرے دل کی آنکھیں نہیں کھلیں یہ بادشاہت نہیں یہ تو نبوت ہے۔ابوسفیان نے کہا ہاں ہاں اچھا پھر نبوت ہی سہی لے جس وقت یہ لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا انصار کے کمانڈر سعد بن عبادہ نے ابوسفیان کو دیکھ کر کہا آج خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحہ ۴۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء