نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 204

۲۰۴ نبیوں کا سردار کھڑا ہوا اور لڑائی شروع ہونے پر پہلے زید مارے گئے پس تم لوگ زید کے لئے دعا کرو۔پھر جھنڈا جعفر نے لے لیا اور دشمن پر حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو۔پھر جھنڈ ا عبداللہ بن رواحہ نے لیا اور خوب دلیری سے لشکر کولٹرا یا مگر آخر وہ بھی شہید ہو گئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو۔پھر جھنڈا خالد بن ولید نے لیا۔اُس کو میں نے کمانڈر مقرر نہیں کیا تھا مگر اُس نے خود ہی اپنے آپ کو کمانڈر مقرر کر لیا۔لیکن وہ خدا تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔پس وہ خدا تعالیٰ کی مدد سے اسلامی لشکر کو بحفاظت واپس لے آئے۔آپ کی اس تقریر کی وجہ سے خالد کا نام مسلمانوں میں سیف اللہ یعنی خدا کی تلوار مشہور ہو گیا ہے چونکہ خالد آخر میں ایمان لائے تھے بعض صحابہ اُن کو مذاقاً یا کسی جھگڑے کے موقع پر طعنہ دے دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی ایسی ہی بات پر حضرت عبدالرحمن بن عوف سے ان کی تکرار ہو گئی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالد کی شکایت کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا خالد ! تم اس شخص کو جو کہ بدر کے وقت سے اسلام کی خدمت کر رہا ہے کیوں دُکھ دیتے ہو؟ اگر تم اُحد کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو اس کے برابر خدا تعالیٰ سے انعام حاصل نہیں کر سکتے۔اس پر خالد نے کہا يَارَسُولَ الله! یہ مجھے طعنہ دیتے ہیں تو پھر میں بھی جواب دیتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم لوگ خالد کو تکلیف نہ دیا کرو۔یہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو خدا تعالیٰ نے کفار کی ہلاکت کے لئے کھینچی ہے۔سے یہ پیشگوئی چند سالوں بعد حرف بحرف پوری ہوئی۔جب خالد اپنے لشکر کو واپس لائے تو مدینہ کے صحابہ جو ساتھ نہ گئے تھے اُنہوں نے اس کے لشکر کو بھگوڑے کہنا شروع کیا۔مطلب یہ تھا کہ تم کو وہیں لڑ کر مر جانا چاہئے تھا واپس بخاری کتاب المغازى باب غزوة مؤتة (الخ) اسد الغابة جلد ۲ صفحه ۹۴ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۵ء