نبیوں کا سردار ﷺ — Page 195
۱۹۵ نبیوں کا سردار ہے اس لئے کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لقمہ نہ لگالیں۔اس کے تھوڑی دیر بعد بشیر کی طبیعت خراب ہوگئی اور بعض روایتوں میں تو یہ ہے کہ وہ وہیں خیبر میں فوت ہو گئے اور بعض میں یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصہ بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ مر گیا۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلا یا اور فرما یا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ہے؟ آپ کے ہاتھ میں اُس وقت بکری کا دست تھا آپ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملایا ہے۔اس پر آپ نے اس سے پوچھا کہ اس ناپسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا ؟ اُس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتہ دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں ان کو زہر دے دوں۔اگر ان کا کاروبار انسانی کا روبار ہو گا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعہ میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچالے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر اُسے معاف فرما دیاہے اور اُس کی سزا جو یقینا قتل تھی نہ دی۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے مارنے والوں اور اپنے دوستوں کے مارنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے اور در حقیقت اُسی وقت آپ سزا دیا کرتے تھے جب کسی شخص کا زندہ رہنا آئندہ بہت سے فتنوں کا موجب ہوسکتا تھا۔طواف کعبہ ہجرت کے ساتویں سال فروری ۶۲۹ء میں معاہدہ کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۲۵۲، ۲۵۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶