نبیوں کا سردار ﷺ — Page 194
۱۹۴ نبیوں کا سردار سورج ڈوبنے کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آرہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے۔آپ نے اس سے پوچھا۔بی بی تمہارا کیا کام ہے؟ اس نے کہا اے ابو القاسم ! میں آپ کے لئے ایک تحفہ لائی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ساتھی صحابی سے فرمایا جو چیز یہ دیتی ہے اس سے لے لو۔اس کے بعد آپ کھانے کے لئے بیٹھے تو کھانے پر وہ بھنا ہوا گوشت بھی رکھا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور آپ کے ایک صحابی بشیر بن البراء بن المعرور نے بھی ایک لقمہ کھایا۔اتنے میں باقی صحابہ نے بھی گوشت کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے فرمایا مت کھاؤ کیونکہ اس ہاتھ نے مجھے خبر دی ہے کہ گوشت میں زہر ملا ہوا ہے ( اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کو اس بارہ میں کوئی الہام ہوا تھا بلکہ یہ عرب کا محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا گوشت چکھ کر مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک دیوار کے متعلق آتا ہے کہ وہ گر نا چاہتی تھی ہے جس کے محض یہ معنی ہیں کہ اس میں گرنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔پس اس جگہ پر بھی یہ مراد نہیں کہ آپ نے فرمایا وہ دست بولا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا گوشت چکھنے پر مجھے معلوم ہوا ہے۔چنانچہ اگلا فقرہ ان معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے ) اس پر بشیر نے کہا کہ جس خدا نے آپ کو عزت دی ہے اُس کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس لقمہ میں زہر معلوم ہوا ہے۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کو پھینک دوں لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو شاید آپ کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور آپ کا کھانا خراب نہ ہو جائے اور جب آپ نے وہ لقمہ نکلا تو میں نے بھی آپ کے تتبع میں وہ نگل لیا۔گو میرا دل یہ کہ رہا تھا کہ چونکہ مجھے شبہ ہے کہ اس میں زہر فوجدا فيها جدار ايريد ان ينقض (الكهف: ۷۸)