نبیوں کا سردار ﷺ — Page 150
نبیوں کا سردار کا مقابلہ کریں۔قرآن کریم میں جو متفرق احکام اس بارہ میں آئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں: ط (1) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ - الَّذِينَ إِن مَّكَّنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ لے یعنی اس لئے کہ ان (مسلمانوں) پر ظلم کیا گیا اور ان مسلمانوں کو جن سے دشمن نے لڑائی جاری کر رکھی ہے، آج جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اللہ یقینا اُن کی مدد پر قادر ہے۔ہاں ان مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی جاتی ہے جن کو اُن کے گھروں سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا۔اُن کا صرف اتنا ہی جرم تھا (اگر یہ کوئی جرم ہے ) کہ وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض ظالم لوگوں کو دوسرے عادل لوگوں کے ذریعہ سے ظلم روکتا نہ رہے تو گرجے اور مناسریاں سے اور عبادت گاہیں اور مسجد میں جن میں خدا تعالیٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے ظالموں کے ہاتھ سے تباہ ہو جائیں (پس دنیا میں مذہب کی آزادی قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ مظلوموں کو اور ایسی قوموں کو جن کے خلاف دشمن پہلے جنگ کا اعلان کر دیتا ہے جنگ کی اجازت دیتا ہے) اور یقینا اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یقینا بڑی طاقت والا اور غالب الحج : ۴۰ تا ۴۲ سے مناسٹریاں (MONASTERIES) : یہودیوں کے عبادت خانے