نبیوں کا سردار ﷺ — Page 149
۱۴۹ نبیوں کا سردار سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص اس تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے وہ خدا کا برگزیدہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ عیسائی دنیا آج تک موسی اور یوشع اور داؤد کو خدا کا برگزیدہ قرار دیتی ہے بلکہ خود عیسائیت کے زمانہ کے بعض قومی ہیرو جنہوں نے اپنی قوم کے لئے جان کو خطرہ میں ڈال کر دشمنوں سے جنگیں کی ہیں مختلف زمانہ کے پوپوں کے فتویٰ کے مطابق آج سینٹ کہلاتے ہیں۔جنگ کے متعلق اسلام کی تعلیم اسلام ان دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان درمیان تعلیم دیتا ہے یعنی نہ تو وہ موسی کی طرح کہتا ہے کہ تو جارحانہ طور پر کسی ملک میں گھس جا اور اُس قوم کو تہہ تیغ کر دے اور نہ وہ اس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح بیانگ بلند یہ کہتا ہے اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے۔مگر اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلوار میں خرید لو۔بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو امن اور صلح کے قیام کے لئے ایک ہی ذریعہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو کسی چیز پر حملہ نہ کر لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے ملتا ہو تب تو اس کے حملہ کا جواب دے۔یہی وہ تعلیم ہے جس سے دنیا میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے۔اس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔آپ مکہ میں برابر تکلیفیں اٹھاتے رہے،لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔مگر جب مدینہ میں آپ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس