نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 92

۹۲ نبیوں کا سردار طریق تھا کہ آپ دشمن کے پاس پہنچ کر اپنے لشکر کو کچھ دیر آرام کرنے کا موقع دیا کرتے تھے تا کہ وہ اپنا سامان وغیرہ تیار کر لیں۔صبح کی نماز کے وقت جب آپ نکلے تو آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ یہودی بھی اپنے معاہد قبیلوں کی مدد کے بہانہ سے آئے ہیں۔چونکہ یہود کی ریشہ دوانیوں کا آپ کو علم ہو چکا تھا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو واپس کر دیا جائے۔اس پر عبد اللہ بن ابی بن سلول جو منافقوں کا رئیس تھا وہ بھی اپنے تین سوساتھیوں کو لے کر یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ اب یہ لڑائی نہیں رہی ہے یہ تو ہلاکت کے منہ میں جانا ہے کیونکہ خود اپنے مددگاروں کو لڑائی سے روکا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صرف سات سورہ گئے جو تعداد میں کفار کی تعداد سے چوتھے حصہ سے بھی کم تھے اور سامانوں کے لحاظ سے اور بھی کمزور۔کیونکہ کفار میں سات سو زرہ پوش تھا اور مسلمانوں میں صرف ایک زرہ پوش۔اور کفار میں دو سو گھوڑ سوا رتھا مگر مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔آخر آپ اُحد پر پہنچے۔وہاں پہنچ کر آپ نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر کئے اور سپاہیوں کے افسر کو تاکید کی کہ وہ درہ اتنا ضروری ہے کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم اس جگہ سے نہ ہلنا۔اس کے بعد آپ بقیہ ساڑھے چھ سو آدمی لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے جواب دشمن کی تعداد سے قریباً پانچواں حصہ تھے۔لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے تھوڑی ہی دیر میں ساڑھے چھ سو مسلمانوں کے مقابلہ میں تین ہزار مکہ کا تجربہ کا رسپاہی سر پر پاؤں رکھ کر بھا گا۔فتح مبدل به شکست مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کیا، تو ان لوگوں نے جو پشت کے درہ کی سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۶۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۷۰،۶۹۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء