نبیوں کا سردار ﷺ — Page 93
۹۳ نبیوں کا سردار حفاظت کے لئے کھڑے تھے انہوں نے اپنے افسر سے کہا اب تو دشمن کو شکست ہو چکی ہے اب ہمیں بھی جہاد کا ثواب لینے دیا جائے۔افسر نے اُن کو اس بات سے روکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد دلائی مگر انہوں نے کہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا صرف تاکید کے لئے فرمایا تھا ورنہ آپ کی مراد یہ تو نہیں ہوسکتی تھی کہ دشمن بھاگ بھی جائے تو یہاں کھڑے رہو۔یہ کہہ کر انہوں نے درہ چھوڑ دیا اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔بھاگتے ہوئے لشکر میں سے خالد بن ولید کی جو بعد میں اسلام کے بڑے بھاری جرنیل ثابت ہوئے نظر خالی درّہ پر پڑی جہاں صرف چند آدمی اپنے افسر کے ساتھ کھڑے تھے۔خالد نے کفار کے لشکر کے دوسرے جرنیل عمرو بن العاص کو آواز دی اور کہا۔ذرا پیچھے پہاڑی درہ پر نگاہ ڈالو۔عمرو بن العاص نے جب درہ پر نگاہ ڈالی تو سمجھا کہ عمر کا بہترین موقع مجھے حاصل ہو رہا ہے دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دوستوں کو سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔چند مسلمان جو وہاں درہ کی حفاظت کے لئے کھڑے رہ گئے تھے ، اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے پشت پر سے اسلامی لشکر پر آپڑے۔اُن کے فاتحانہ نعروں کوسن کر سامنے کا بھاگتا ہوا بقیہ لشکر بھی میدان جنگ کی طرف لوٹ پڑا۔یہ حملہ ایسا اچانک ہوا اور کافروں کا تعاقب کرنے کی وجہ سے مسلمان اتنے پھیل چکے تھے کہ کوئی باقاعدہ اسلامی لشکر اُن لوگوں کے مقابلہ میں نہیں تھا۔اکیلا اکیلا سپاہی میدان میں نظر آرہا تھا، جن میں سے بعض کو اُن لوگوں نے ماردیا۔باقی اس حیرت میں کہ یہ ہو کیا گیا ہے پیچھے کی طرف دوڑے۔چند صحابہ دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے ، جن کی تعد ادزیادہ سے زیادہ تھیں تھی لے کفار نے شدت کے ساتھ اُس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے زرقانی جلد ۲ صفحه ۳۵