نبیوں کا سردار ﷺ — Page 88
۸۸ نبیوں کا سردار کو بھی اُن کے بعض ساتھیوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔لڑائی ہوگئی اور ۳۱۳ آدمی جن میں سے اکثر ناتجربہ کار اور سب ہی بے سامان تھے کفار کے تجربہ کارلشکر کے مقابلہ میں جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی کھڑے ہو گئے۔جنگ ہوئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر عرب کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔یسعیاہ کی پیشگوئی کے مطابق قیدار کی حشمت جاتی رہی اور مکہ کی فوج کچھ لاشیں اور کچھ قیدی پیچھے چھوڑ کر سر پر پاؤں رکھ کر مکہ کی طرف بھاگ پڑی۔جو قیدی پکڑے گئے اُن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بھی تھے جو ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا کرتے تھے، انہیں مجبور کر کے مکہ والے اپنے ساتھ لڑائی کے لئے لے آئے تھے۔اسی طرح قیدیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی کے خاوند ابوالعاص بھی تھے۔مارے جانے والوں میں ابو جہل مکہ کی فوج کا کمانڈر اور اسلام کا سب سے بڑا دشمن بھی شامل تھا۔بدر کے قیدی اس فتح پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش بھی تھے کہ وہ پیشگوئیاں جو متواتر چودہ سال سے آپ کے ذریعہ سے شائع کی جارہی تھیں اور وہ پیشگوئیاں جو پہلے انبیاء اس دن کے متعلق کر چکے تھے پوری ہو گئیں لیکن مکہ کے مخالفوں کا عبرتناک انجام بھی آپ کی نظروں کے سامنے تھا۔آپ کی جگہ پر کوئی اور شخص ہوتا تو خوشی سے اچھلتا اور کودتا لیکن جب آپ کے سامنے سے مکہ کے قیدی رسیوں میں بندھے ہوئے گزرے تو آپ اور آپ کے باوفا ساتھی ابوبکر کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔اُس وقت حضرت عمر جو بعد میں آپ کے دوسرے خلیفہ ہوئے سامنے سے آئے تو انہیں حیرت ہوئی کہ اس فتح اور خوشی کے وقت میں آپ کیوں رو ر ہے ہیں اور انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! مجھے بھی