نبیوں کا سردار ﷺ — Page 89
۸۹ نبیوں کا سردار بتائیے کہ اس وقت رونے کا کیا باعث ہے؟ اگر وہ بات میرے لئے بھی رونے کا موجب ہے تو میں بھی روؤں گا نہیں تو کم سے کم میں آپ کے غم میں شریک ہونے کے لئے رونی صورت ہی بنالوں گا۔آپ نے فرما یاد یکھتے نہیں خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے آج مکہ والوں کی کیا حالت ہو رہی ہے لے آپ کے انصاف اور آپ کی عدالت کا جس کی خبر یسعیاہ نے بار بار اپنی پیشگوئیوں میں دی ہے اس موقع پر ایک لطیف ثبوت ملا۔مدینہ کی طرف واپس آتے ہوئے رات کو جب آپ سونے کے لئے لیٹے تو صحابہ نے دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آتی۔آخر انہوں نے سوچ کر یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے چچا عباس چونکہ رسیوں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے سو نہیں سکتے اور اُن کے کراہنے کی آوازیں آتی ہیں اِس لئے اُن کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کو نیند نہیں آتی۔انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے حضرت عباس کے بندھنوں کو ڈھیلا کر دیا۔حضرت عباس سو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی نیند آگئی۔تھوڑی دیر کے بعد یکدم گھبرا کے آپ کی آنکھ کھلی اور آپ نے پوچھا عباس خاموش کیوں ہیں؟ اُن کے کراہنے کی آواز اب کیوں نہیں آتی ؟ آپ کے دل میں یہ وہم پیدا ہوا کہ شاید تکلیف کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔صحابہ نے کہا یا رسُول اللہ ! ہم نے آپ کی تکلیف کو دیکھ کر اُن کے بندھن ڈھیلے کر دیئے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں ! نہیں ! ! یہ بے انصافی نہیں ہونی چاہئے۔جس طرح عباس میرا رشتہ دار ہے دوسرے قیدی بھی تو دوسروں کے رشتہ دار ہیں یا تو سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دو تا کہ وہ آرام سے سوجائیں اور یا پھر عباس کے بندھن بھی کسی دو۔صحابہ نے آپ کی بات سن کر سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دیے اور حفاظت کی ساری ذمہ داری اپنے سر پر لے لی ہے جولوگ قید ہوئے مسلم کتاب الجهاد باب المراد بالملائكة في غزوة بدر (الخ) ، اسد الغابة جلد ۳ صفحہ ۱۰۹۔مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ