نبیوں کا سردار ﷺ — Page 85
۸۵ نبیوں کا سردار جاتے ہیں۔مگر مدینہ کے لوگ تو اُن لوگوں کے منہ سے ان مظالم کی داستانیں سنتے تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ مظالم ہوتے دیکھے۔ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس اور صلح جو یا نہ زندگی کو دیکھتے تھے دوسری طرف مکہ والوں کے انسانیت سوز مظالم کے واقعات سنتے تھے تو اُن کے دل اس حسرت سے بھر جاتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی صلح جوئی اور پر عافیت مزاج کی وجہ سے ان لوگوں کا جواب نہیں دیا کاش ! وہ ہمارے سامنے آجائیں تو ہم انہیں بتائیں کہ اگر اُن کے ظلموں کا جواب نہیں دیا گیا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کا جواب دینے کی اجازت نہیں تھی۔مسلمانوں کے دلوں کی کیفیت کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ابو جہل نے ایک بدوی سردار کو اس بات کے لئے بھیجا کہ وہ اندازہ کرے کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔جب وہ واپس لوٹا تو اُس نے بتایا کہ مسلمان تین سوا تین سو کے قریب ہوں گے۔اس پر ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا اب مسلمان ہم سے بچ کر کہاں جاتے ہیں۔مگر اُس شخص نے کہا۔اے مکہ والو! میری نصیحت تم کو یہی ہے کہ تم ان لوگوں سے نہ لڑو کیونکہ میں نے جتنے آدمی مسلمانوں کے دیکھے ہیں اُن کو دیکھ کر مجھ پر یہی اثر ہوا ہے کہ اونٹوں پر آدمی سوار نہیں موتیں سوار ہیں لے یعنی اُن میں سے ہر شخص مرنے کیلئے اس میدان میں آیا ہے زندہ واپس جانے کے لئے نہیں آیا۔اور جو شخص موت کو اپنے لئے آسان کر لیتا ہے اور موت سے ملنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اُس کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوا کرتی۔لے سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۶ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ ه + سیرت | ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۲۷۴۔مطبوعہ ۱۹۳۶ء