نبیوں کا سردار ﷺ — Page 77
22 نبیوں کا سردار آج مغربی ممالک اپنے آپ کو بہت ہی مہذب سمجھتے ہیں۔جو کچھ مکہ میں ہوا کیا اُن سے نصف واقعات پر بھی کوئی قوم لڑے تو کوئی شخص اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟ کیا اگر کوئی حکومت کسی دوسرے ملک کے لوگوں کو ایک جماعت کے قتل کرنے یا اپنے ملک سے نکال دینے پر مجبور کرے تو اُس جماعت کو حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اُس سے لڑائی کا اعلان کرے؟ پس مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کسی نئی وجہ کے پیدا ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔مکی زندگی کے واقعات مسلمانوں کو پورا حق دیتے تھے کہ وہ مکہ والوں سے جنگ کا اعلان کر دیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے صبر کیا اور صرف دشمنوں کی شرارتوں کا پتہ لگاتے رہنے کی حد تک اپنی کوششیں محدود رکھیں۔مگر جب مکہ والوں نے خود مدینہ کے عربوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا یا، مسلمانوں کو حج کرنے سے روک دیا اور اُن کے ان قافلے نے جو شام میں تجارت کے لئے جاتے تھے انہوں نے اپنے اصل راستے کو چھوڑ کر مدینہ کے اردگرد کے قبائل میں سے ہو کر گزرنا اور ان کو مدینہ والوں کے خلاف اُکسانا شروع کیا تو مدینہ کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کا بھی فرض تھا کہ وہ اس لڑائی کے چیلنج کو جو مکہ والے متواتر چودہ سال سے انہیں دے رہے تھے قبول لیتے اور دنیا کے کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ وہ چیلینج کے قبول کرنے پر اعتراض کرے۔مدینہ میں اسلامی حکومت کی بنیاد جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیرونی حالات کی خبر گیری کر رہے تھے وہاں آپ مدینہ کی اصلاح سے بھی غافل نہیں تھے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ مدینہ کے مشرک اکثر اخلاص کے ساتھ اور بعض منافقت کے ساتھ مسلمان ہو چکے تھے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریق حکومت کو اُن میں قائم کرنا شروع کیا۔پہلے عرب کے دستور کے مطابق لوگ لڑ