نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 71

اے نبیوں کا سردار منافقوں سے مشورہ کیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے یہاں رہنے دیا تو ہمارے لئے خطرات کا دروازہ کھل جائے گا اس لئے چاہئے کہ ہم آپ کے ساتھ لڑائی کریں اور مکہ والوں کو خوش کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل گئی اور آپ عبداللہ ابن ابی بن سلول کے پاس گئے اور اُسے سمجھایا کہ تمہارا یہ فعل خود تمہارے لئے ہی مضر ہو گا۔کیونکہ تم جانتے ہو کہ مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور اسلام کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اگر تم ایسا کرو گے تو وہ لوگ یقینا مہاجرین کے ساتھ ہوں گے اور تم لوگ اِس لڑائی کو شروع کر کے بالکل تباہ ہو جاؤ گے۔عبد اللہ ابن ابی بن سلول پر اپنی غلطی کھل گئی اور وہ اس ارادہ سے باز آ گیا۔انصار و مہاجرین میں مؤاخات انہی ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تدبیر اسلام کی مضبوطی کے لئے اختیار کی اور وہ یہ کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور دو دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔اس مؤاخات یعنی بھائی چارے کا انصار نے ایسی خوشدلی سے استقبال کیا کہ ہر انصاری اپنے بھائی کو اپنے گھر پر لے گیا اور اپنی جائیداد اُس کے سامنے پیش کر دی کہ اُسے نصف نصف بانٹ لیا جائے۔ایک انصاری نے تو یہاں تک حد کر دی کہ اپنے مہاجر بھائی سے اصرار کیا کہ میں اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں تم اُس سے شادی کر لوٹے مگر مہاجرین نے اُن کے اس اخلاص کا شکر یہ ادا کر کے اُن کی جائیدادوں میں سے حصہ لینے سے انکار کر دیا۔مگر پھر بھی انصار مصر ر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! جب یہ مہاجرین ہمارے بھائی ہو گئے تو یہ کس ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء في مواساة۔۔۔۔۔الخ