نبیوں کا سردار ﷺ — Page 70
نمازیں پڑھ سکتے تھے۔نبیوں کا سردار مکہ والوں کی مسلمانوں کو دوبارہ دُکھ دینے کی تدبیریں دو تین مہینے گزرنے کے بعد مکہ کے لوگوں کی پریشانی دور ہوئی اور انہوں نے نئے سرے سے مسلمانوں کو دکھ دینے کی تدابیر سوچنی شروع کیں۔مگر مشورہ کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ صرف مکہ اور گرد و نواح میں مسلمانوں کو تکلیف دینا انہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں کر سکتا۔وہ اسلام کو تبھی مٹا سکتے ہیں جب مدینہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلوادیں۔چنانچہ یہ مشورہ کر کے مکہ کے لوگوں نے عبداللہ ابن ابی بن سلول کے نام جس کی نسبت پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ والوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا خط لکھا اور اسے توجہ دلائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ جانے کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کو بہت صدمہ ہوا ہے۔مدینہ کے لوگوں کو چاہئے نہیں تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دیتے۔اس کے آخر میں یہ الفاظ تھے إِنَّكُمْ أَوَيْتُمْ صَاحِبَنَا وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللهِ لَتُقَاتِلَنَّهُ أَوْ تُخْرِجَنَّهُ أَوْلَنُسَيْرَنَّ اِلَيْكُمْ بِأَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَ كُمْ لا یعنی اب جبکہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے گھروں میں پناہ دی ہے ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ یا تو تم مدینہ کے لوگ اس کے ساتھ لڑائی کردیا اُسے اپنے شہر سے نکال دو نہیں تو ہم سب کے سب مل کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے تمام قابل جنگ آدمیوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے۔اس خط کے ملنے پر عبداللہ ابن ابی بن سلول کی نیت کچھ خراب ہوئی اور اُس نے دوسرے ابو داؤد کتاب الخراج و الفئى باب في خبر النفير