نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 66

۶۶ نبیوں کا سردار حاضر ہے آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔آخر اس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا ہے حضرت ابوایوب انصاری کے مکان پر قیام اس کے بعد آپ نے فرمایا سب سے قریب گھر کس کا ہے؟ ابوایوب انصاری آگے بڑھے اور کہا یا رسول اللہ ! میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا گھر جاؤ اور ہمارے لئے کوئی کمرہ تیار کرو۔ابوایوب کا مکان دومنزلہ تھا اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل پسند فرمائی۔انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جو شدید محبت پیدا ہو گئی تھی ، اُس کا مظاہرہ اس موقع پر بھی ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوایوب مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے نیچے سورہے ہیں پھر وہ کس طرح اس بے ادبی کے مرتکب ہو سکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔رات کو ایک برتن پانی کا گر گیا تو اس خیال سے کہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے حضرت ایوب نے دوڑ کر اپنا لحاف اُس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا۔صبح کے وقت پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر جانا منظور فرما لیا۔حضرت ابوایوب روزانہ کھانا تیار کرتے اور آپ کے پاس بجھواتے پھر جو آپ کا بچا ہوا کھانا آتا وہ سارا گھر کھاتا۔کچھ دنوں کے بعد اصرار کے ساتھ ل السيرت الحلبية جلد ۲ صفحه ۸۷،۸۶۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء