نبیوں کا سردار ﷺ — Page 58
۵۸ نبیوں کا سردار سے نکلا جا رہا ہے تو رؤساء پھر جمع ہوئے اور مشورے کے بعد اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا ہی مناسب ہے۔خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آپ کے قتل کی تاریخ آپ کی ہجرت کی تاریخ سے موافق پڑی۔جب مکہ کے لوگ آپ کے گھر کے سامنے آپ کے قتل کے لئے جمع ہورہے تھے آپ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔مکہ کے لوگ ضرور شبہ کرتے ہوں گے کہ اُن کے ارادہ کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مل چکی ہوگی۔مگر پھر بھی جب آپ اُن کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ کوئی اور شخص ہے اور بجائے آپ پر حملہ کرنے کے سمٹ سمٹ کر آپ سے چھپنے لگ گئے، تا کہ اُن کے ارادوں کی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خبر نہ ہو جائے۔اس رات سے پہلے دن ہی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے ابوبکر کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی پس وہ بھی آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے اور مکہ سے تین چار میل پر ثور نامی پہاڑی کے سرے پر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے لے جب مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے گئے ہیں تو انہوں نے ایک فوج جمع کی اور آپ کا تعاقب کیا۔ایک کھوجی اُنہوں نے اپنے ساتھ لیا جو آپ کا کھوج لگاتے ہوئے ثور پہاڑ پر پہنچا۔وہاں اُس نے اُس غار کے پاس پہنچ کر جہاں آپ ابوبکر کے ساتھ چھپے ہوئے تھے یقین کے ساتھ کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے۔اُس کے اس اعلان کو سن کر ابوبکر کا دل بیٹھنے لگا اور اُنہوں نے آہستہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دشمن سر پر آپہنچا ہے اور اب کوئی دم میں غار میں داخل ہونے والا ہے۔آپ نے فرمایا۔لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا - ابوبکر ! لے بخاری باب ہجرۃ النبی السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۴۱۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ + + بخاری باب مناقب المهاجرين