نبیوں کا سردار ﷺ — Page 44
۴۴ نبیوں کا سردار اُن کے دلوں میں سر اٹھا رہا تھا اُنہوں نے ایک تھال انگوروں کا بھرا اور اپنے غلام عداس کو کہا کہ جاؤ اور ان مسافروں کو اسے دو۔عداس نینوا کا رہنے والا ایک عیسائی تھا۔جب اُس نے یہ انگور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے اور آپ نے یہ کہتے ہوئے اُن انگوروں کولیا کہ خدا کے نام پر جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے میں یہ لیتا ہوں تو عیسائیت کی یا داس کے دل میں پھر تازہ ہو گئی۔اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے سامنے خدا کا ایک نبی بیٹھا ہے جو اسرائیلی نبیوں کی سی زبان میں باتیں کرتا ہے۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ جب اُس نے کہا نینوا کا۔تو آپ نے فرمایاوہ نیک انسان یونس جو متی کا بیٹا تھا اور نینوا کا باشندہ وہ میری طرح خدا کا ایک نبی تھا۔پھر آپ نے اُس کو اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی۔عداس کی حیرانی چند ہی لمحوں میں تعجب سے بدل گئی۔تعجب ایمان میں تبدیل ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اجنبی غلام آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپ کے سر اور ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگالے عداس کی باتوں سے فارغ ہو کر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف مخاطب ہوئے اور آپ نے خدا سے یوں دعا مانگی۔اللهُمْ إِلَيْكَ أَشْكُو ضُعْفَ قُوَّتِي وَقِلَّةَ حِيْلَتِي وَهُوَ انِي عَلَى النَّاسِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ أَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبِّي إِلَى مَنْ تَكِلُنِى إِلَى بَعِيْدٍ يَتَجَهَّمُنِي أَمْ إِلَى عَدُةٍ مَلَكْتَهُ أَمْرِى إِنْ لَّمْ يَكُن بِكَ عَلَى غَضَبْ فَلا أَبَالِي وَلَكِنْ عَافِيَتُكَ هِيَ أَوْسَعُ لِي اَعُوْذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنَزِلَ بِي غَضَبَكَ أَوْ يَحِلَّ عَلَى سَخَطَكَ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۶۲، ۶۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء