نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 35

۳۵ نبیوں کا سردار ہے اس کی بات کی پرواہ نہ کریں۔حضرت عثمان نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا بیوقوفی کی کیا بات ہے جو بات میں نے کہی ہے وہ سچ ہے۔اس پر ایک شخص نے اٹھ کر زور سے آپ کے منہ پر گھونسا مارا جس سے آپ کی ایک آنکھ نکل گئی۔ولید اُس وقت اُس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔عثمان کے باپ کے ساتھ اُس کی بڑی گہری دوستی تھی۔اپنے مردہ دوست کے بیٹے کی یہ حالت اُس سے دیکھی نہ گئی۔مگر مکہ کے رواج کے مطابق جب عثمان اس کی پناہ میں نہیں تھے تو وہ ان کی حمایت بھی نہیں کر سکتا تھا ، اس لئے اور تو کچھ نہ کر سکا نہایت ہی دکھ کے ساتھ عثمان ہی کو مخاطب کر کے بولا! اے میرے بھائی کے بیٹے ! خدا کی قسم تیری یہ آنکھ اس صدمہ سے بچ سکتی تھی جبکہ تو ایک زبر دست حفاظت میں تھا ( یعنی میری پناہ میں تھا) لیکن تو نے خود ہی اس پناہ کو چھوڑ دیا اور یہ دن دیکھا۔عثمان نے جواب میں کہا جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے میں خود اس کا خواہشمند تھا تم میری پھوٹی ہوئی آنکھ پر ماتم کر رہے ہو حالانکہ میری تندرست آنکھ اس بات کیلئے تڑپ رہی ہے کہ جو میری بہن کے ساتھ ہوا ہے وہی میرے ساتھ کیوں نہیں ہوتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ میرے لئے بس ہے۔اگر وہ تکلیفیں اٹھا رہے ہیں تو میں کیوں نہ اٹھاؤں۔میرے لئے خدا کی حمایت کافی ہے۔حضرت عمر کا قبولِ اسلام اسی زمانہ میں مکہ میں ایک اور واقعہ ظاہر ہوا جس نے مکہ میں آگ لگا دی اور یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ عمر" جو بعد میں اسلام کے دوسرے خلیفہ ہوئے اور جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں شدید ترین دشمنوں میں سے تھے۔ایک دن بیٹھے بیٹھے اُن کے دل میں خیال آیا کہ اس وقت تک اسلام کے مٹانے کے لئے بہت کچھ کوششیں کی گئی ہیں مگر کامیابی اسد الغابة جلد ۳ صفحه ۳۸۶،۳۸۵ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ