نبیوں کا سردار ﷺ — Page 29
۲۹ نبیوں کا سردار کوئی اُن پر حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ، اگر کوئی اُن سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دے سکتے ، اگر کوئی ان سے مدد مانگے تو وہ اس کی مدد نہیں کر سکتے۔مگر خدائے واحد تو مانگنے والوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔سوال کرنے والوں کو جواب دیتا ہے۔مدد مانگنے والوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو زیر کرتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں کو اعلی ترقیات بخشتا ہے۔اس سے روشنی آتی ہے جو اس کے پرستاروں کے دلوں کو منور کر دیتی ہے۔پھر تم کیوں ایسے خدا کو چھوڑ کر بے جان بتوں کے آگے جھکتے ہو اور اپنی عمر ضائع کر رہے ہو۔تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہو گئے ہیں۔تم قسم قسم کی وہی تعلیموں میں مبتلا ہو۔حلال وحرام کی تم میں تمیز نہیں رہی۔اچھے اور بُرے میں تم امتیاز نہیں کر سکتے۔اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو، اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو اور ان کے حق انہیں نہیں دیتے۔اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔یتامی کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے بُرا سلوک کرتے ہو۔غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہو اور دوسروں کے حق مار کر اپنی بڑائی قائم کرنا چاہتے ہو۔جھوٹ اور فریب سے تم کو عار نہیں۔چوری اور ڈاکہ سے تم کو نفرت نہیں۔جوا اور شراب تمہارا شغل۔۔حصولِ علم اور قومی خدمت کی طرف تمہاری توجہ نہیں۔خدائے واحد کی طرف سے کب تک غافل رہو گے۔آؤ اور اپنی اصلاح کرو اور ظلم چھوڑ دو۔ہر حق دار کو اُس کا حق دو۔خدا نے اگر مال دیا ہے تو ملک وقوم کی خدمت اور کمزوروں اور غریبوں کی ترقی کے لئے اُسے خرچ کرو۔عورتوں کی عزت کرو اور ان کے حق ادا کرو۔یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور اُن کی خبر گیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔بیواؤں کا سہارا بنو۔نیکیوں اور تقویٰ کو قائم کرو۔انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ۔اس دنیا میں تمہارا آنا بیکار نہ جانا چاہئے۔اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑو، تا دائمی نیکی کا بیج بویا جائے۔حق لینے