نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 311

٣١١ نبیوں کا سردار میٹی پر الزام لگایا تھا تو دنیا کا کونسا شخص اس کے سوا کوئی اور فیصلہ کرسکتا تھا بہت سے لوگ تو ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں مگر حضرت ابو بکر نے صرف اتنا کیا کہ اس شخص کی آئندہ پر ورش بند کر دی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت ابوبکر کو سمجھایا اور فرمایا کہ اس شخص سے غلطی ہوئی اور اس نے گناہ کیا مگر آپ کی شان اس سے بالا ہے کہ ایک بندے کے گناہ کی وجہ سے اُس کو اس کے رزق سے محروم کر دیں۔چنانچہ حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت پھر اُس کی پرورش کرنے لگے لے مبر آپ فرما یا کرتے تھے کہ مؤمن کے لئے تو دنیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور سوائے مؤمن کے یہ مقام اور کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔اگر اسے کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے اور اگر اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس طرح بھی خدا تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا اور آپ بیماری کی تکلیف کی وجہ سے آپ کراہ رہے تھے تو آپ کی بیٹی فاطمہ نے ایک دفعہ بیتاب ہو کر کہا۔آہ! مجھ سے اپنے باپ کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا صبر کرو آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔سے یعنی میری تکالیف اس دنیا کی زندگی تک محدود ہیں۔آج میں اپنے رب کے پاس چلا جاؤں گا جس کے بعد میرے لئے تکلیف کی بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورة النور باب ان الذين يحبون ان تشيع الفاحشة (الخ) مسلم کتاب الزهد باب المو من امره کله خیر سے بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ و وفاته