نبیوں کا سردار ﷺ — Page 307
۳۰۷ نبیوں کا سردار لگے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ آپ کی ایک بیوی صفیہ بنت حیی آپ سے ملنے آئیں۔باتیں کرتے کرتے دیر ہو گئی تو آپ نے مناسب سمجھا کہ اُن کو گھر تک پہنچا آئیں۔جب آپ اُن کو گھر چھوڑنے کے لئے جارہے تھے تو راستہ میں دو شخص ملے، جن کے متعلق آپ کو شبہ تھا کہ شاید ان کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کسی عورت کے ساتھ رات کے وقت کہاں جا رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ٹھہرالیا اور فرمایا۔دیکھو! یہ میری بیوی صفیہ ہیں۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! ہمیں آپ پر بدلنی کا خیال پیدا ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا۔شیطان انسان کے خون میں پھرتا ہے میں ڈرا کہ تمہارے ایمان کو ضعف نہ پہنچ جائے لے دوسروں کے عیوب چھپانا آپ کی نظر میں اگر کسی کا عیب آجاتا تو آپ اُسے چھپاتے تھے اور اگر کوئی اپنا عیب ظاہر کرتا تھا تو اُس کو بھی عیب ظاہر کرنے سے منع فرماتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو بندہ کسی دوسرے بندے کا گناہ دنیا میں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ قیامت کے دن چھپائے گا۔سے آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میری اُمت میں سے ہر شخص کا گناہ مٹ سکتا ہے ( یعنی تو بہ سے) مگر جو اپنے گناہوں کا آپ اظہار کرتے پھریں اُن کا کوئی علاج نہیں۔پھر فرماتے کہ آپ اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر پردہ ڈال دیتا ہے مگر صبح کے وقت وہ اپنے دوستوں سے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ بخاری کتاب الاعتكاف باب هل يخرج المعتكف لحوائجه مسلم کتاب البر والصلة باب بشارة من سر الله تعالى عليه في الدنيا بان يستر عليه في الآخرة