نبیوں کا سردار ﷺ — Page 300
۳۰۰ نبیوں کا سردار کیونکہ اس کی برائی بیان کرنے میں کوئی فائدہ نہیں لیکن اس کی نیکی بیان کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے دعا کی تحریک پیدا ہوگی لے آپ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ جو لوگ مر جائیں اُن کے قرض جلد سے جلد ادا کئے جاویں۔چنانچہ جب کوئی شخص مرجاتا اور اُس پر قرض ہوتا تو آپ یا تو خود اُس کا قرض ادا کر دیتے ہے اور اگر آپ میں اس کی توفیق نہ ہوتی تو اس کے رشتہ داروں میں تحریک کرتے اور اس کا جنازہ اُس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک اُس کا قرض ادا نہ کر دیا جاتا۔ہمسایوں سے حسن سلوک ہمسایوں کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت ہی اچھا ہوتا تھا آپ فرمایا کرتے تھے جبریل مجھے بار بار ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال آتا ہے کہ ہمسائے کو شاید وارث ہی قرار دیا جائے گا۔سے حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے ابوذر! جب کبھی شور با پکاؤ تو پانی زیادہ ڈال لیا کرو اور اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھا کرو۔کے یہ مطلب نہیں کہ دوسری چیزیں دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ عرب بدوی تھے اور اُن کا بہترین کھانا شور با ہوتا تھا آپ نے ہمسایہ کی امداد کے خیال سے بخاری کتاب الجنائز باب ما ينهى من سب الاموات + ابو داؤد کتاب الادب باب في النهى عن سبّ الموتى کے بخاری کتاب الاستقراض باب الصلوة على من ترك ديناً بخاری کتاب الادب باب الوصاءة بالجار مسلم كتاب البر والصلة باب الوصية بالجار والاحسان اليه