نبیوں کا سردار ﷺ — Page 24
۲۴ نبیوں کا سردار ظاہر میں انسان تھے اور باطن میں فرشتے۔قرآن صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل اور کانوں پر نازل نہیں ہو رہا تھا خدا اُن لوگوں کے دلوں میں بھی بول رہا تھا اور کبھی کوئی مذہب قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ابتدائی ماننے والوں کے دلوں میں سے خدا کی آواز بلند نہ ہو۔جب انسانوں نے اُن کو چھوڑ دیا ، جب رشتہ داروں نے اُن سے منہ پھیر لیا تو خدا تعالیٰ اُن کے دلوں میں کہتا تھا میں تمہارے ساتھ ہوں ، میں تمہارے ساتھ ہوں اور یہ سب ظلم اُن کے لئے راحت ہو جاتے تھے۔گالیاں دعائیں بن کر لگتی تھیں۔پتھر مرہم کے قائمقام ہو جاتے تھے مخالفتیں بڑھتی گئیں مگر ایمان بھی ساتھ ہی ترقی کرتا گیا۔ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا مگر اخلاص بھی تمام گزشتہ حد بندیوں سے او پر نکل گیا۔آزاد مسلمانوں پر ظلم آزاد مسلمانوں پر بھی کچھ کم ظلم نہیں ہوتے تھے۔اُن کے بزرگ اور خاندانوں کے بڑے لوگ انہیں بھی قسم قسم کی تکلیفیں دیتے تھے۔حضرت عثمان چالیس سال کی عمر کے قریب کے تھے اور مالدار آدمی تھے مگر باوجود اس کے جب قریش نے مسلمانوں پر ظلم کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے چچا حکم نے اُن کو رسیوں سے باندھ کر خوب پیٹا۔زبیر بن العوام ایک بہت بڑے بہادر نوجوان تھے۔اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں وہ ایک زبر دست جرنیل ثابت ہوئے۔ان کا چا بھی اُن کو خوب تکلیفیں دیتا تھا۔چٹائی میں لپیٹ دیتا تھا اور نیچے سے دُھواں دیتا تھا تا کہ اُن کا سانس رُک جائے اور پھر کہتا تھا کہ کیا اب بھی اسلام سے باز آؤ گے یا نہیں؟ مگر وہ ان تکالیف کو برداشت کرتے اور جواب میں یہی کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر اُس سے انکار نہیں کر سکتا۔حضرت ابوذر، غفار قبیلہ کے ایک آدمی تھے وہاں انہوں نے سنا کہ مکہ میں کسی