نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 292

۲۹۲ نبیوں کا سردار جواب دوں گا اس لئے میں فوراً اندر گیا اور جا کر یہ مال نکال لایا ہے اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ نے صدقہ کو اپنی اولاد کے لئے حرام کر دیا تا ایسا نہ ہو کہ آپ کے اعزاز اور احترام کی وجہ سے صدقہ کے اموال لوگ آپ کی اولاد میں ہی تقسیم کر دیا کریں اور دوسرے غریب محروم رہ جائیں۔ایک دفعہ آپ کے سامنے صدقہ کی کچھ کھجوریں لائی گئیں۔حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ کے نواسے تھے اور جن کی عمر اُس وقت دو اڑھائی سال کی تھی اُس وقت آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً انگلی ڈال کر اُن کے منہ سے کھجور نکالی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں۔یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے۔سے غلاموں سے حسن سلوک غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا آپ ہمیشہ وعظ فرماتے رہتے۔آپ کا یہ ارشاد تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس غلام ہو اور وہ اس کو آزاد کرنے کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر وہ کسی وقت غصہ میں اُس کو مار بیٹھے یا گالی دے تو اُس کا کفارہ یہی ہے کہ اُس کو آزاد کر دے۔سے اسی طرح آپ غلاموں کو آزاد کرنے کے متعلق اتنا زور دیتے تھے کہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کے ہر عضو پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔کے پھر آپ فرمایا کرتے تھے غلام سے اتنا بخاری کتاب الاذان باب من صلى بالناس فذكر حاجة (الخ) بخاری کتاب الزكوة باب اخذ صدقة التمر عند صرام النخل مسلم کتاب الایمان باب اطعام المملوك مما يأكل (الخ) بخاری کتاب کفارات الایمان باب قول الله تعالى او تحرير رقبة