نبیوں کا سردار ﷺ — Page 291
۲۹۱ نبیوں کا سردار غرباء کے مالوں کی حفاظت اسلام کی فتح کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے اموال آتے جنہیں آپ مستحقین میں تقسیم کر دیتے۔ایک دفعہ بہت سا مال آیا تو آپ کی بیٹی فاطمہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ دیکھئے میرے ہاتھ چکی پیس پیس کر زخمی ہو گئے ہیں اگر آپ مجھے ان اموال میں سے کوئی لونڈی یا غلام دے دیں تو وہ میرا ہاتھ بٹا دیا کریں۔آپ نے فرما یا فاطمہ! میری بیٹی ! میں تم کولونڈی یا غلام رکھنے سے زیادہ قیمتی چیز بتاتا ہوں جب تم سونے لگو تو تم تینتیس دفعہ الْحَمدُ لِلہ تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللہ اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔یہ تمہارے لئے لونڈی اور غلام سے زیادہ بہتر ہوگا لیے ایک دفعہ کچھ اموال آئے اور آپ نے اُن کو تقسیم کر دیا۔تقسیم کرتے وقت ایک دینار آپ کے ہاتھ سے گر گیا اور کسی چیز کی اوٹ میں آ گیا۔مال تقسیم کرتے کرتے آپ کے ذہن سے وہ بات اُتر گئی سب مال تقسیم کرنے کے بعد آپ مسجد میں آئے اور نماز پڑھائی۔نماز پڑھانے کے بعد بجائے اس کے کہ ذکر الہی میں مشغول ہو جاتے جیسا کہ آپ کی عادت تھی یا لوگوں کو اپنی ضروریات کے پیش کرنے یا مسائل پوچھنے کا موقع دیتے آپ تیزی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ایسی تیزی کے ساتھ کہ بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہماری گردنوں پر کودتے ہوئے آپ اندر کی طرف چلے گئے اور دینار تلاش کیا پھر واپس تشریف لائے اور باہر آ کر وہ دینا کسی مستحق کو دیتے ہوئے فرمایا یہ دینار گر گیا تھا اور مجھے بھول گیا تھا مجھے نماز پڑھاتے ہوئے یاد آیا اور میرا دل اس خیال سے بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور لوگوں کا یہ مال میرے گھر میں ہی پڑا رہا تو میں خدا کو کیا بخاری کتاب الدعوات باب التكبير والتسبيح عند المنام