نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 275

۲۷۵ نبیوں کا سردار بن عمر کیسا اچھا آدمی ہوتا اگر تہجد بھی باقاعدہ پڑھتا جب حضرت عبد اللہ بن عمر کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے اُس دن سے تہجد کی نماز با قاعدہ شروع کر دی۔اسی طرح لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ رات اپنے داماد حضرت علی اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر گئے اور فرمایا کیا تہجد پڑھا کرتے ہو؟ ( یعنی وہ نماز جو آدھی رات کے قریب اُٹھ کر پڑھی جاتی ہے ) حضرت علی نے عرض کیا یا رسُول اللہ ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت کسی وقت ہماری آنکھ بند رہتی ہے تو پھر تہجد رہ جاتی ہے۔آپ نے فرمایا تہجد پڑھا کرو۔اور اُٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے اور راستہ میں بار بار کہتے جاتے تھے وَكَانَ الْإِنْسَانُ اكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً " یہ قرآن کریم کی ایک آیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اکثر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے گھبراتا ہے اور مختلف قسم کی دلیلیں دے کر اپنے قصور پر پردہ ڈالتا ہے۔مطلب یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ یہ کہتے کہ ہم سے کبھی کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے اُنہوں نے یہ کیوں کہا کہ جب خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ ہم نہ جاگیں تو ہم سوئے رہتے ہیں اور اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا۔لیکن باوجود اللہ تعالیٰ کی اس قدر محبت رکھنے کے آپ تصنع کی عبادت اور کہانت سے سخت نفرت کرتے تھے۔آپ کا اصول یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں انسان کے اندر پیدا کی ہیں اُن کا صحیح طور پر استعمال کرنا ہی اصل عبادت ہے۔آنکھوں کی موجودگی میں آنکھوں کو بند کر دینا یا اُن کو نکلوا دینا عبادت نہیں بلکہ گستاخی ہے ہاں اُن کا بد استعمال کرنا گناہ ہے۔کانوں کو کسی آپریشن کے ذریعے سے شنوائی سے محروم کر دینا خدا تعالیٰ کی گستاخی ہے۔ہاں لوگوں کی غیبتیں اور چغلیاں سننا گناہ بخاری کتاب المناقب باب مناقب عبد اللہ بن عمر ال بخاری کتاب التهجد باب تحريض النبی ﷺ علی قیام اللیل (الخ)