نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 273

۲۷۳ نبیوں کا سردار شماس آپ کے ساتھ تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی۔آپ اُس قافلہ تک آئے اور مسلیمہ کذاب کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اتنے میں اور صحابی بھی جمع ہو گئے اور آپ کے اردگر دکھڑے ہو گئے۔آپ نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔تم یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کر دیں تو میں اس کی اتباع کرنے کے لئے تیار ہوں، لیکن میں تو خدا کے حکم کے خلاف یہ کھجور کی شاخ بھی تم کو دینے کے لئے تیار نہیں۔تمہارا وہی انجام ہوگا جو خدا نے تمہارے لیے مقرر کیا ہے۔اگر تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے پاؤں کاٹ دے گا اور میں تو دیکھ رہا ہوں کہ خدا نے جو کچھ مجھے دکھایا تھا وہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے۔پھر فرمایا میں جاتا ہوں جو باتیں کرنی ہیں میری طرف سے ثابت بن قیس بن شماس کے ساتھ کرو۔یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے آئے۔حضرت ابوہریرہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔راستہ میں کسی نے آپ سے پوچھا یا رسُول اللہ! آپ نے یہ کیا فرمایا ہے کہ جو مجھے خدا نے دکھایا تھا میں تجھے ویسا ہی پاتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے ہاتھ میں دو کڑے ہیں۔میں نے اُن کڑوں کو دیکھ کر نا پسند کیا۔اُس وقت مجھے خواب میں ہی وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں۔جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اُڑ گئے۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے مدعی میرے بعد ظاہر ہوں گے لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا یہ آخری زمانہ تھا۔عرب کی سب سے بڑی اور آخری قوم آپ کی فرمانبرداری کرنے کے لئے تیار تھی اور صرف اتنی شرط کرتی تھی کہ اس کے سردار کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں۔اگر رسول اللہ صلی اللہ بخاری کتاب المغازی باب قصة الاسود العنسی