نبیوں کا سردار ﷺ — Page 259
۲۵۹ نبیوں کا سردار آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا چھوڑ دو اور فرماتے تھے ایک انسان کا کھانا دو انسانوں کے لئے کافی ہونا چاہئے لے جب کبھی آپ کے گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تو آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھو۔اسی طرح اپنے ہمسایوں کے گھروں میں آپ اکثر ہدیہ بجھواتے رہتے تھے۔سے آپ اپنے مسکین صحابہ کی شکلوں سے ہمیشہ یہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھوکا تو نہیں۔حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کئی دن فاقہ سے رہے۔ایک دن جب سات وقت فاقہ سے گزر گئے تو وہ بے تاب ہو کر مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اتفاقاً حضرت ابو بکر وہاں سے گزرے تو انہوں نے ان سے ایک ایسی آیت کا مطلب پوچھا جس میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے۔حضرت ابوبکر نے ان کی بات سے سمجھا کہ شاید اس آیت کے معنی ان کو معلوم نہیں اور وہ اس آیت کے معنی بیان کر کے آگے چل دیئے۔حضرت ابو ہریرہ جب لوگوں کے سامنے یہ روایت بیان کرتے تو غصہ سے کہا کرتے کہ کیا ابو بکر مجھ سے زیادہ قرآن جانتا تھا!! میں نے تو اس لئے آیت پوچھی تھی کہ ان کو اس آیت کے مضمون کا خیال آ جائے اور مجھے کھانا کھلا دیں۔اتنے میں حضرت عمر وہاں سے گزرے۔ابوہریرہ کہتے ہیں میں نے ان سے بھی اس آیت کا مفہوم پوچھا۔حضرت عمر نے بھی اس آیت کا مطلب بیان کر دیا اور آگے چل دیئے۔صحابہؓ سوال کو سخت نا پسند کرتے تھے۔جب ابو ہریرہ نے دیکھا کہ بے مانگے کھانا ملنے کی بخاری کتاب الاطعمة باب طعام الواحد يكفى الاثنين مسلم کتاب البر و الصلة باب الوصية بالجار و الاحسان اليه سے بخاری کتاب الادب باب لا تحقرن جارة بجارتها