نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 20

نبیوں کا سردار شروع ہوگئی۔ایک دفعہ پھر شیطان کے لشکروں نے فرشتوں پر ہلہ بول دیا۔بھلا ان مٹھی بھر آدمیوں کی طاقت ہی کیا تھی کہ مکہ والوں کے سامنے ٹھہر سکیں۔عورتیں بے شرمانہ طریقوں سے قتل کی گئیں۔مرد ٹانگیں چیر چیر کر مار ڈالے گئے ، غلام تپتی ہوئی ریت اور گھر درے پتھروں پر گھسیٹے گئے۔اس حد تک کہ اُن کے چمڑے انسانی چمڑوں کی شکلیں بدل کر حیوانی چمڑے بن گئے۔ایک مدت بعد اسلام کی فتح کے زمانہ میں جب اسلام کا جھنڈا مشرق و مغرب میں لہرا رہا تھا ایک دفعہ ایک ابتدائی نو مسلم غلام خباب کی پیٹھ نگی ہوئی تو اُن کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اُن کی پیٹھ کا چمڑا انسانوں جیسا نہیں جانوروں جیسا ہے وہ گھبرا گئے اور اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے؟ وہ ہنسے اور کہا بیماری نہیں یہ یادگار ہے اُس وقت کی جب ہم کو مسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روا رکھے جاتے تھے اُسی کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑہ یہ شکل اختیار کر گیا ہے۔مؤمن غلاموں پر کفار مکہ کا ظلم وستم یہ غلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلال ، رومی بھی تھے جیسے مہیب۔پھر اُن میں عیسائی بھی تھے جیسے جیر اور صہیب۔اور مشرکین بھی تھے جیسے بلال اور عمار۔بلال کو اُس کے مالک تیپتی ریت پر لٹا کر او پر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نوجوانوں کو سینہ پر کودنے کے لئے مقرر کر دیتے۔حبشی النسل بلال اُمیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔اُمیہ انہیں دوپہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ سے باہر لے جا کر تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزیٰ کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ