نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 21

۲۱ نبیوں کا سردار وسلم) سے علیحدگی کا اظہار کر۔بلال اُس کے جواب میں کہتے احد احد یعنی اللہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے۔بار بار آپ کا یہ جواب سن کر اُمیہ کو اور غصہ آجاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اُوپر سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا مگر وہ پھر بھی احد احد کہتے چلے جاتے ، یعنی خدا ایک خدا یک۔عرصہ کے بعد جب خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن دیا جب وہ آزادی سے عبادت کرنے کے قابل ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اذان دینے کے لئے مقرر کیا۔یہ حبشی غلام جب اذان میں اَشْهَدُ أن لا إله إلا الله کی بجائے اَشهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا الله کہتا تو مدینہ کے لوگ جو اُس کے حالات سے ناواقف تھے ہنسنے لگ جاتے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلال کی اذان پر ہنستے ہوئے پایا تو آپ لوگوں کی طرف مڑے اور کہا تم بلال کی اذان پر ہنستے ہومگر خدا تعالیٰ عرش پر اُس کی اذان سن کر خوش ہوتا ہے۔آپ کا اشارہ اسی طرف تھا کہ تمہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ”ش“ نہیں بول سکتا۔مگر ش“ اور ”س“ میں کیا رکھا ہے خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جب تپتی ریت پر رنگی پیٹھ کے ساتھ اس کو لٹا دیا جاتا تھا اور اس کے سینہ پر ظالم اپنی جوتیوں سمیت کو دا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ کیا اب بھی سبق آیا ہے یا نہیں؟ تو یہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں احد احد کہہ کر خدا تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرتارہتا تھا اور اپنی وفاداری ، اپنے توحید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا۔پس اُس کا اسھد بہت سے لوگوں کے اٹھڈ سے زیادہ قیمتی تھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اُن پر یہ ظلم دیکھے تو اُن کے مالک کو اُن کی قیمت ادا کر کے انہیں آزاد کروا دیا۔اسی طرح اور بہت سے غلاموں کو حضرت ابوبکر رضی لے سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۳۴۰،۳۳۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء